لاہور (قوم ریسرچ سیل) رائیونڈ روڈ لاہور پر واقع پنجاب گورنمنٹ آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں چھ سال کے عرصے کے دوران ہونے والی 15 ارب روپے کی کرپشن پنجاب میں کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ مکمل طور پر ملوث ثابت ہوا اور اس سوسائٹی کے خود ساختہ صدر ندیم اکرام ورک کو ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسران کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔ کوآپریٹوڈیپارٹمنٹ کے قوانین کے مطابق ہر کوآپریٹو سوسائٹی میں محکمے کا انسپکٹر ہفتے میں کم از کم تین مرتبہ از خود موقع پر جا کر سوسائٹی کے ریکارڈ کی مکمل انسپکشن کرنے کا پابند ہوتا ہے اور اس ڈیپارٹمنٹ کا عملہ اس ریکارڈ کا قانونی طور پر کسٹوڈین ہوتا ہے مگر ڈیپارٹمنٹ کے کرپٹ افسران نے ندیم اکرام ورک کو سہولت کاری دینے کی خاطر ایک نائب قاصد حارث سندھو کو ترقی دے کر کلرک بنایا اور اسے اس ہاؤسنگ سوسائٹی کی ذمہ داری سونپ دی جو بعد میں اپنے زید نامی بھائی کو اس سوسائٹی میں ریکارڈ سے متعلقہ تمام معاملات کا کرتا دھرتا بنا گیا۔ 15 ارب روپے کی کرپشن کا کھیل کامیابی سے تکمیل تک پہنچانے کے انعام کے طور پر نائب قاصد بھرتی ہونے والے حارث سندھو کو گریڈ 16 میں ترقی دے کر کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کے اہم ترین شعبے سی این آر ٹی جس کے پاس صوبے بھر کے تمام تر ریکارڈ کا کنٹرول ہوتا ہے میں اہم سیٹ پر تعینات کر دیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے ایک نائب قاصد کو گریڈ 16 تک لے جانے میں کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کے کن کن افسران کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی اور یہ افسران کیوں کر ایک نائب قاصد کو غیر قانونی طور پر اہم ذمہ داریوں سے نوازتے رہے۔ انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق رات کے اندھیرے میں شجاع فاروقہ، علی خیبر اور شرجیل چوہدری نامی تین رکنی افسران پر مشتمل کمیٹی محض خانہ پری کے لیے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کر رہی ہے اور حقیقت میں یہ تینوں تمام تر فراڈ کے مرکزی کردار ندیم اکرام ورک کی اب بھی سہولت کاری کر رہے ہیں کیونکہ اکرام ورک کے خلاف کیس بناتے وقت جان بوجھ کر ایسی قانونی رکاوٹیں ڈال دی گئی ہیں کہ اسے ہائی کورٹ سے آسانی سے حکم امتناعی مل سکتا ہے۔ یاد رہے کہ چند سال قبل کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ آفس کو آگ لگائی گئی اور تمام تر ریکارڈ جلا دیا گیا تو اس میں بھی ایک نائب قاصد ہی کو استعمال کیا گیا تھا، یاد رہے کہ حکومت پنجاب کا کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ 1986 سے آج تک لگاتار 40 سال سے کرپشن کے متعدد گھنائونے معاملات میں ملوث ہونے کے باوجود ہر حکومت کی آنکھ کا تارا رہا ہے اور ہر حکومت یہاں اپنی مرضی کے اور منظور نظر افراد کو ہی تعینات کرتی رہی ہے۔ موجودہ سیکرٹری کوآپریٹو اس سے قبل کمشنر گوجرانوالہ تھے اور ان پر بعض معاملات کے حوالے سے الزامات عائد کیے جاتے تھے جس پر انہیں ٹرانسفر کرکے اسی قسم کی اہم اسامی پر تعینات کر دیا گیا۔







