گندم بحران: پنجاب، سندھ کے پی نے وفاق کے ذخائر مانگ لئے، رحیم یار خان میں ہزاروں ٹن خفیہ سٹاک-گندم بحران: پنجاب، سندھ کے پی نے وفاق کے ذخائر مانگ لئے، رحیم یار خان میں ہزاروں ٹن خفیہ سٹاک-مظفرگڑھ: دوہرا قانون، مرغی فروشوں پر فیس کی "چھری"، گندم، پٹرول مافیاز کی سہولتکاری-مظفرگڑھ: دوہرا قانون، مرغی فروشوں پر فیس کی "چھری"، گندم، پٹرول مافیاز کی سہولتکاری-لکھن کا نہ چلا جتن، 10 لاکھ ہرجانہ برقرار، سابق جی ایم پی ٹی وی ملتان کی اپیل مسترد-لکھن کا نہ چلا جتن، 10 لاکھ ہرجانہ برقرار، سابق جی ایم پی ٹی وی ملتان کی اپیل مسترد-لاہور کوآپریٹو سوسائٹی: 15 ارب کرپشن میں کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ ملوث، مکمل پشت پناہی-لاہور کوآپریٹو سوسائٹی: 15 ارب کرپشن میں کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ ملوث، مکمل پشت پناہی-قوم کی خبر پر گورنر پنجاب ایکشن، ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی متنازع بھرتیاں رک گئیں-قوم کی خبر پر گورنر پنجاب ایکشن، ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی متنازع بھرتیاں رک گئیں

تازہ ترین

پنکی کے بعد نورین، بہاولپور میں بڑا منشیات نیٹ ورک، طلبہ آئس، ہنی ٹریپ کا شکار

ملتان (قوم ایجوکیشن ریسرچ سیل)کوکین کوئین پنکی کے بعدنورین سامنے آگئے،بہاول پورمیں بڑ ےمنشیات نیٹ ورک کاانکشاف ہواہے، طلبہ آئس کے نشے اورہنی ٹریپ کاشکارہونےلگے۔بہاولپور سے تعلق رکھنے والے طلبا و طالبات کے ایک گروپ نے روزنامہ قوم کے چیف ایڈیٹر سے رابطہ کرکے بہاولپور کے تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی اور بے راہ روی کی طرف نوجوان نسل کو راغب کرنے والے ایک گھنائونے نیٹ ورک کا انکشاف کیا ہے۔ طالبات نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو ڈیرہ بکھا کی رہائشی نورین نامی ایک خاتون چلا رہی ہے پولیس کے بعض نچلے درجے کے ملازمین اور مختلف تعلیمی اداروں کے بعض سکیورٹی گارڈز کی سہولت کاری حاصل ہے۔اس خاتون کے خلاف کئی مقدمات بھی درج ہیں مگر پولیس اس کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں کیونکہ یہ درخواست دینے میں اور اداروں سمیت پولیس کو بلیک میل کرنے میں مہارت رکھتی ہے۔ یہ مختلف جگہوں پر گھر تبدیل کرتی رہتی ہے اور اکثر اوقات ایک معروف تعلیمی ادارے کے بالمقابل واقع ایک کالونی میں کرائے پر رہائش پذیر ہوتی ہے۔ تفصیل کے مطابق بہاولپور میں مبینہ طور پر ہنی ٹریپ، منشیات فروشی اور غیر قانونی غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث اس نورین نامی خاتون کے متعلق سنگین الزامات سامنے آنے پر شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مختلف ذرائع اور مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ ڈیرہ بکھا کی رہائشی خاتون نے ایک ایسا مبینہ نیٹ ورک بنا رکھا ہے جسکے ذریعے نوجوان نسل کو منشیات اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مبینہ نیٹ ورک کے بارے میں یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس مبینہ نیٹ ورک میں چند بااثر افراد اور پولیس میں چھپی چند کالی بھیڑوں کی مبینہ سرپرستی شامل ہے جسکی وجہ سے آج تک اس نیٹ ورک کے خلاف کسی قسم کی کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ نورین نامی خاتون کے حوالے سے جب کسی علاقے میں سرگرمیوں کی اطلاع عام ہوتی ہے تو مبینہ طور پر وہ گھر تبدیل کر لیا جاتا ہے۔ قوم کو بتایا گیا ہے کہ مذکورہ خاتون تھانہ بغداد الجدید میں ایک مقدمہ نمبر 250/25 بجرم 489 F میں اشتہاری ملزمہ قرار دی جا چکی ہے اور مذکورہ خاتون نے پولیس کی معاونت سے ایک فیملی کے رکن کے خلاف تھانہ سمہ سٹہ میں زنا بالجبر کا سنگین مقدمہ نمبر 409/25 بجرم 376!!! بھی اپنی مدعیت میں درج کروا رکھا ہے۔ یہ خود بھی آئس کی عادی ہے اور جو لڑکے اس سے رابطے میں آتے ہیں انہیں بھی آئس پر لگا دیتی ہے۔ یہ خاتون مختلف تھانوں میں سنگین الزامات کے مقدمات میں مدعیہ رہ چکی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ تمام تر معلومات کے باوجود آج تک یہ نیٹ ورک پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی آنکھ سے دانستہ طور پر اوجھل رکھ کر اسے مکمل پشت پناہی دی جا رہی ہے۔ ایک طالب علم نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ انہوں نے آر پی او بہاولپور، ڈی پی او بہاولپور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس خاتون کے گینگ کے خلاف فوری طور پر نوٹس لینے اور مبینہ نیٹ ورک کے خلاف خفیہ طور پر شفاف غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے سخت کارروائی عمل میں لا نےکاکہا۔ کئی بار معلومات دینے کے بعد کارروائی کا انتظار کیا مگر کارروائی نہ ہونے پر روزنامہ قوم سے رابطہ کیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں