ملتان (انویسٹی گیشن سیل) روزنامہ قوم کی خبروں پر ایکشن، واسا ملتان میں 18 سال سے تعینات اسسٹنٹ ڈائریکٹر پبلک ریلیشن ( پی آر او ) سید حسن محمود بخاری کا تبادلہ، تین سالہ ڈیپوٹیشن پر فیصل آباد بھجوا دیا گیا۔ تفصیل کے مطابق سیکرٹری ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پنجاب نے واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (واسا) ملتان کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر (پبلک ریلیشنز) سید حسن محمود بخاری (BS-17) کو فوری طور پر واسا فیصل آباد تبدیل کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سید حسن بخاری کی خدمات تین سال کے لیے ڈپوٹیشن کی بنیاد پر منیجنگ ڈائریکٹر واسا فیصل آباد کے سپرد کر دی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ تبادلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روزنامہ قوم کی جانب سے سید حسن محمود بخاری کے خلاف غیر قانونی سکیل اپ گریڈیشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور طویل عرصے سے ایک ہی جگہ تعیناتی اور چار عہدوں پر براجمان ہونے کی خبریں شائع کی گئیں ، سید حسن محمود بخاری گزشتہ 18 برس سے واسا ملتان میں تعینات رہے اور مبینہ طور پر اپنے تعلقات اور اثر و رسوخ کے باعث مسلسل ایک ہی شہر میں خدمات انجام دیتے رہےحالانکہ سرکاری ملازمین کی پالیسی کے مطابق طویل عرصہ ایک ہی جگہ تعیناتی غیر معمولی تصور کی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق حسن بخاری پر یہ الزامات بھی سامنے آتے رہے کہ وہ مبینہ طور پر اپنی غیر قانونی سکیل اپ گریڈیشن برقرار رکھنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے رہے۔واضح رہے کہ حسن بخاری 2008 میں کنٹریکٹ پر پی آر او بھرتی ہوئے اور انہیں 2015 میں ریگولر کیا گیا بعدازاں ان کو گریڈ 16 سے گریڈ 17 میں ترقی دی گئی جس کا کیس اینٹی کرپشن میں زیر سماعت ہے۔ ان کے پاس پی آر او کے علاوہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن سمیت چار عہدوں کے چارج بھی تھے جس کی نشان دہی روزنامہ قوم نے کی تھی جس پر سیکرٹری ہاؤسنگ نے ان کے تبادلے کے احکامات جاری کئے ہیں، واسا ذرائع کے مطابق حسن محمود بخاری کے تبادلے پر واسا افسران اور ملازمین جوکہ حسن بخاری کی ہر معاملے میں مداخلت سے تنگ تھے انہوں نے اطمینان اور سکھ کا سانس لیا ہے۔







