رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)”سب پھڑے جان گے”ضلع رحیم یارخان میں غیر قانونی ٹاؤنز اور ہاؤسنگ اسکیموں کے بلڈر مافیا اور انکے سرکاری سہولت کاروںکیخلاف گھیرا تنگ، حساس اداروں نے فہرستیں مرتب کرنا شروع کردی،صادق آباد،رحیم یارخان،خانپور،لیاقت پور تحصیل کے چیف افسران بلدیہ،چیف افسر ضلع کونسل،نقشہ برانچ کے بلڈنگ انسپکٹر،رجسٹرار،سب رجسٹرار،پٹواری،واپڈا،سوئی گیس،محکمہ ہائی وے کے افسران و اہلکاران بلڈر مافیا کے سہولت کار نکلے،شہریوں کو لوٹنے والے بلڈر مافیا کو سب سے زیادہ ضلع کونسل اور بلدیہ کی نقشہ برانچ کے بلڈنگ انسپکٹروں نے لوٹا،کروڑوں اربوں روپے کی جائیدادیں بنالی،بلڈر مافیا اور نقشہ برانچ کے اہلکاروں کو پاکستان مسلم لیگ(ن)،پاکستان تحریک انصاف،پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں کی آشیر باد حاصل ہونے کا بھی انکشاف۔تفصیل کے مطابق زرعی زمینوں کو بانچھ اور درختوں کا قتل عام کرکے شہری اور مضافاتی علاقوں میں غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ ہاؤسنگ اسکیمیں ،کالونیاں،ٹاؤنز بنا کر شہریوں کے کروڑوں اربوں روپے ہڑپ کرنیوالے بلڈر مافیا اور انکے سرکاری سہولت کاروں کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے،ذمہ دار ذرائع کے مطابق حکومت نے پنجاب بھر میں چائنہ کٹنگ کے ماہر بلڈر مافیا کا ریکارڈ مرتب کرنے اور “کراس چیک”کرنے کیلئے حساس اداروں کو ڈیوٹیاں تقویض کردی ہیں،پنجاب کی ٹیل کے ضلع رحیم یارخان کی چاروں تحصیلوں صادق آباد،رحیم یارخان،خانپور اور لیاقت پور میں قائم رجسٹرڈ و غیر رجسٹرڈ ہاؤسنگ اسکیموں ،ٹاؤنز ،کالونیوں، کمرشل سینٹروں کا حساس اداروں نے ریکارڈ مرتب کرنا شروع کردیا اور بلڈر مافیا کی معاونت اور سرکاری سہولت کاری فراہم کرنے والے اداروں کے افسران اور اہلکاروں کی بھی فہرست مرتب کی جارہی ہے،باؤثوق ذرائع کے مطابق ضلع بھر کے ٹاپ 10 بلڈر مافیا جن میں میاں غلام غوث،حاجی خادم حسین،میاں سرفراز،حاجی عبدالرزاق،سابق چیئرمین بلدیہ شفیق پپا،اقبال حفیظ،شفقت حسین،صابر حسین،محمد افضل مقبول،عبدالرشید گوندل شامل ہیں جنہوں نے رحیم یارخان اور صادق آباد میں غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیمیں،ٹاؤنز،ہاؤسنگ سوسائٹیاں،کالونیاں اور کمرشل پلازے بنا کر بغیر رجسٹرڈ کروائے فروخت کردئیے ہیں،ذمہ دار ذرائع کاکہنا ہے متذکرہ بلڈرز مافیا نقشہ برانچ کے بلڈنگ انسپکٹروں کو فی ٹاؤنز میں کارنر پلاٹس اور پھر لاکھوں روپے رشوت دے کر ٹاؤن کی رجسٹریشن کیلئے فائل جمع کروا دیتے ہیں جنہیں نقشہ برانچ کے بلڈنگ انسپکٹرچیف افسر ضلع کونسل،چیف افسران بلدیہ،پٹواریوں کی مدد سے انڈر پراسس کے نام پر جمع کر لیتے ہیں اور 2 ڈھائی سال نقشہ برانچ میں جمع رہتی ہے جبکہ بلڈر مافیا ٹاؤن فروخت کرکے کروڑوں کما کر پھر چند لاکھ میں 100یا 200 کنال زرعی زمین اونے پونے داموں خرید کر نیا ٹاؤن بنا کر فروخت کرنا شروع کردیتا ہے اور یہی پراسس دہراتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ بلڈر مافیا کی اندر کھاتے چیف افسر ضلع کونسل،چیف افسران بلدیہ،نقشہ برانچ،رجسٹرار ،سب رجسٹرار،پٹواری ،گرداور،محکمہ سوئی گیس،محکمہ واپڈا اور محکمہ ہائی کے افسران سہولت کاری کرتے ہیں اور لاکھوں روپے رشوت لے کر معاملے کو گول کرکے افسران کو ماموں بنادیتے ہیں،ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے متذکرہ ہاؤسنگ اسکیموں کے مالکان پر نقشہ برانچ کے بلڈنگ انسپکٹروں ارشد سیال،عدنان بشیر،زوہیب خٹک،رمضان گجر،محمد کلیم سمیت ،چیف افسران سمیت اہلکاروں کی مدعیت میں 200 سے زائد مختلف تھانوں میں مقدمات بھی درج کروائے گئے ہیں،مگر قانون میں ترامیم نہ ہونے اور کمزور دفعات کے باعث بلڈر مافیا فوری ضمانت ہوجاتی ہے ،ذمہ دار ذرائع کے مطابق شہریوں کو لوٹنے والے بلڈر مافیا کو نقشہ برانچ کے بلڈنگ انسپکٹر دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں اور کروڑوں اربوں روپے کی جائیدادیں بنا کر لگژری زندگی گزارنے میں مصروف ہیں،ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ نقشہ برانچ رحیم یارخان کے بلڈنگ انسپکٹروں ارشد سیال،زوہیب خٹک اور عدنان بشیر کے آف شور اور غیر قانونی اثاثوں کی تفصیلات چیک کرلی جائیں تو حقائق سامنے آجائینگے ،معتبر ذرائع نے یہ انکشاف کیا ہے کہ بلڈر مافیا اور انکے سرکاری سہولت کاروں کو ضلع رحیم یارخان سے تعلق رکھنے والے پاکستان مسلم لیگ (ن)،پاکستان تحریک انصاف اور پاکستا پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت کی مکمل آشیر باد حاصل ہے اگر کوئی شہری انکے خلاف کسی فورم پر درخواست دیتا ہے تو سیاسی بااثر شخصیات اثر انداز ہو کر اپنے کماؤ پتروں کیخلاف افسران کو خاموش کروا دیتے ہیں۔دوسری جانب بلڈرز مافیا میاں غوث،حاجی خادم حسین،حافظ رزاق اور اقبال حفیظ کا کہنا ہے کہ انکی ہاؤسنگ اسکیمیں اور کمرشل سینٹرز قوانین کے مطابق رجسٹرڈ ہیں اور کئی ہاؤسنگ اسکیموں کی رجسٹریشن کیلئے انہوں نے نقشہ برانچ میں مینول سسٹم کے تحت اور کئی فائلیں ای خدمت سروسز کے ذریعے آن لائن جمع کروا رکھی ہیں ۔نقشہ برانچ ،ضلع کونسل اور تحصیل کونسل کے افسران اور اہلکاران کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کیخلاف آپریشن سارا سال جاری رہتے ہیں رواں سال کے دوران تقریباً100 سے زائد غیر قانونی ٹاؤنز اور ہاؤسنگ اسکیموں کو سیل کرکے رجسٹریوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے مالکان کیخلاف مقدمات کا اندراج بھی کروایا جاچکا ہے۔







