تازہ ترین

چولستان میں مبینہ بدعنوانی، انیٹی کرپشن کی کاروائی سے ہلچل، عملہ گرفتار، افسر محفوظ

بہاولپور(کرائم رپورٹر) محکمہ چولستان بہاولپور ایک بار پھر مبینہ کرپشن، رشوت ستانی اور انتظامی بے ضابطگیوں کے الزامات کی زد میں آ گیا ۔ ذرائع کے مطابق محکمہ چولستان میں مال بناؤ مہم زور و شور سے جاری ہے جبکہ ذمہ دار افسران کے ماتحت اہلکار اور بعض مبینہ پرائیویٹ ٹاوٹس کے زریعے کام کرانے اور رشوت وصول کرنے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں معلوم ہوا ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن نے عوامی شکایات پر کالونی برانچ کے کلرک سید ناظم شاہ اور سی او ون کے ریڈر تفسیر حیدر کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے انہیں مبینہ طور پر رشوت وصول کرتے ہوئے گرفتار کیا تاہم شہری حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا تحقیقات کا دائرہ صرف ماتحت ملازمین تک محدود رکھا گیا یا ان افسران کے کردار کا بھی جائزہ لیا گیا جنکے دفاتر میں یہ تمام معاملات مبینہ طور پر انجام پاتے رہے؟ زرائع کے مطابق سید ناظم شاہ کے خلاف ماضی میں بھی عوامی شکایات پر اینٹی کرپشن کی کاروائیاں اور مقدمات درج ہوئے لیکن نافذین کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر اصل ذمہ دار افسران ہر بار کاروائی سے محفوظ رہتے ہیں شہریوں کا الزام ہے کہ بعض کیسز میں معاملات نمٹنے کے بعد متعلقہ اہلکار دوبارہ انہی حساس عہدوں پر تعینات کر دیے جاتے ہیں جس سے کرپشن کے خاتمے کے بجائے اسکی حوصلہ افزائی ہوتی ہے زرائع کا مزید کہنا ہے کہ ریڈر تفسیر حیدر کی مدعی مقدمہ سے مبینہ صلح ہو چکی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ جلد قانونی کاروائی مکمل ہونے کے بعد دوبارہ اپنے عہدے پر بحال نظر آئیں گے اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے محکمہ میں احتسابی عمل پر مزید سوالات جنم لے سکتے ہیں بہاولپور کے عوامی وسماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور کمشنر بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ چولستان میں مبینہ کرپشن، رشوت ستانی اور بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں صرف ماتحت ملازمین ہی نہیں بلکہ تمام متعلقہ افسران کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے تاکہ حقائق سامنے آئیں اور اگر کوئی شخص قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا جانے تو اسکے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں