تازہ ترین

چشتیاں: محکمہ فوڈ میں مبینہ کرپشن، گندم سمگلنگ کا نیٹ ورک بے نقاب

چشتیاں(تحصیل رپورٹر)چشتیاں میں محکمہ فوڈ کے انسپکٹر رانا سلیم اور ان کے بھائی اے ایف سی (AFC) لیاقت کی سر پرستی میں گندم کی مبینہ اسمگلنگ اور کرپشن کا بڑا سکینڈل منظر عام پر آ گیا تحصیل چشتیاں میں گندم کی پکڑ دھکڑ کی آڑ میں مبینہ طور پر بھاری ڈیل کرتے ہیں اور پکڑی گئی گندم کو غیر قانونی طریقے سے دوسرے شہروں میں منتقل کر کے فروخت کر کے مبینہ طور پر بھاری ڈیل کے ذریعے مال بٹورتے ہیں۔اس حوالے سے ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے جس میں رانا سلیم نے راشد اکبر چیمہ نامی زمیندار سے گندم چھوڑنے کی مد میں مبینہ طور پر ہمراہ شکیل نامی شخص کے بذریعہ اکاؤنٹ میں 1 لاکھ 75 ہزار 5 سو روپے کی خطیر رقم رشوت کے طور پر وصول کی گئی ہے۔اس سے پہلے کیرج اور لیبر کی مد میں بھی زمیندار راشد اکبر چیمہ سے 1 لاکھ 40 ہزار روپے وصول کیے گئے اور 35 سو بیگ باردانہ بھی ساتھ لے گئے اسی طرح چشتیاں کے علاقہ اڈاہ 28 گجیانی یسین ٹریڈرز شاپ پر بغیر نمبر پلیٹ سفید رنگ کی پرائیویٹ کار پر رانا سلیم فوڈ انسپکٹر اور شکیل نے جا کر محمد بلال نامی دکاندار سے 300 بیگ گندم چھوڑنے کو عوض 70 ہزار روپے کی ڈیمانڈ کرتے ہیں پھر مبینہ طور پر 50 ہزار روپے میں ڈیل کرکے پانچ پانچ ہزار کے دس نوٹ رشوت وصول کر کے چلے جاتے ہیں اس کرپشن کے ٹھوس ثبوت اور شواہد منظرِ عام پر آ گئے ہیں جس سے محکمہ فوڈ کی کارکردگی اور دیانتداری پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ گندم مافیا کے سرپرستوں کے اس مکروہ گٹھ جوڑ نے نہ صرف غریب عوام کی روٹی کو مہنگا کیا ہے بلکہ سرکاری اثاثوں کی خرد برد سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوڈ انسپکٹر سلیم اور لیاقت کے خلاف فوری تحقیقات کا آغاز کیا جائے متاثرہ شہریوں سے وصول کی گئی رقم اور باردانہ واپس کروایا جائے اور ان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ان کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو کرپشن کا یہ بازار اسی طرح گرم رہے گا اور مافیا کے حوصلے مزید بلند ہوں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں