میلسی ٹی ایچ کیو ہسپتال میں غیر محفوظ خون منتقلی سے بچی کو ایڈز، متاثرہ جاں بحق

میلسی (جنرل رپورٹر)تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میلسی کے چلڈرن وارڈ میں زیر علاج بچوں کے مبینہ طور پر ایچ آئی وی (ایڈز) میں مبتلا ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ایک متاثرہ خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ خون کی منتقلی کے بعد ان کی کمسن بچی میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی، جبکہ بچی بعد ازاں مختلف ہسپتالوں میں علاج کے باوجود جاں بحق ہوگئی۔ متاثرہ خاندان نے واقعے کی اعلیٰ سطح پر شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا ہے۔متاثرہ شہری شاہ نواز ولد حافظ عبدالغفور، سکنہ موضع نوشہرہ نزد اڈہ آرے واہن، تحصیل میلسی، ضلع وہاڑی کے مطابق وہ اپنی کمسن بیٹی عمیمہ کو بخار کے باعث تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میلسی لے کر آئے، جہاں اسے چلڈرن وارڈ میں داخل کر لیا گیا۔ ان کے مطابق چند روز بعد ڈاکٹروں نے خون کی کمی تشخیص کرتے ہوئے خون کا انتظام کرنے کی ہدایت کی۔ شاہ نواز کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ایک دوست کو بطور ڈونر لے کر آئے، جہاں لیبارٹری میں کراس میچ اور دیگر ضروری ٹیسٹوں کے بعد بچی کو خون منتقل کیا گیا، جبکہ اگلے روز اسے ڈسچارج کر دیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ چند روز بعد بچی کی طبیعت دوبارہ خراب ہوگئی، جس پر وہ اسے دوبارہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میلسی لے گئے۔ ان کے بقول ڈاکٹر گدائے حسین نے معائنہ کرنے کے بعد چغتائی لیبارٹری سے ٹیسٹ کروانے کی ہدایت کی، جہاں سے آنے والی رپورٹ میں مبینہ طور پر بچی میں ایچ آئی وی (ایڈز) کی تشخیص ہوئی۔ بعد ازاں بچی کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال وہاڑی ریفر کیا گیا، جہاں ڈاکٹر عامر رانا کی زیر نگرانی علاج جاری رہا، تاہم طبیعت بہتر نہ ہونے پر اسے چلڈرن کمپلیکس ملتان منتقل کر دیا گیا۔متاثرہ والد کے مطابق چلڈرن کمپلیکس ملتان میں بھی تین روز تک علاج جاری رہا، لیکن ان کی بیٹی عمیمہ 15 جولائی 2026 کو انتقال کر گئی۔اس موقع پر شاہ نواز کے کزن قاری شاہد نے بھی دعویٰ کیا کہ چلڈرن کمپلیکس ملتان میں علاج کے دوران وہاں موجود ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میلسی سے مبینہ طور پر ایچ آئی وی (ایڈز) میں مبتلا متعدد بچے علاج کے لیے یہاں لائے جا چکے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع یا متعلقہ اداروں سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔غم سے نڈھال شاہ نواز نے حکومت پنجاب، سیکرٹری صحت، چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ وہاڑی اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پورے معاملے کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ اگر کسی بھی مرحلے پر غفلت یا کوتاہی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بیٹی تو واپس نہیں آ سکتی، لیکن اگر بروقت تحقیقات ہوئیں تو شاید کسی اور والدین کو اس کرب سے نہ گزرنا پڑے۔تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میلسی کی ایم ایس سے موقف کے لئے رابطہ کی کوشش کی گئی مگرابھی موقف سامنے نہ آسکا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں