ملتان: مبینہ زیادتی، انصاف نہ ملنے پر خاتون کی خودکشی، تھانیدار سمیت 3 اہلکار گرفتار، ڈی ایس پی معطل

ملتان(نمائندہ خصوصی)ملتان میں مبینہ زیادتی کیس میں پولیس کی جانب سے کارروائی نہ کرنے پر خاتون نےخودکشی کرلی، آئی جی پنجاب رائو عبد ا لکریم کا سخت ایکشن، ایس ایچ او سمیت تین اہلکار گرفتار، ڈی ایس پی کو معطل کردیا۔ذرائع کے مطابق ملتان کے نواحی علاقے بدھلہ سنت میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں سجاد ٹاؤن کی رہائشی خاتون شمیم بی بی نے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں پولیس کی جانب سے بروقت قانونی کارروائی نہ ہونے پر دلبرداشتہ ہو کر مبینہ طور پر زہریلی گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ اس واقعے نے علاقے میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہےاور پولیس کی کارکردگی پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ اشفاق سمیت تین افراد نے انہیں مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ شکایت موصول ہونے پر پولیس نے خاتون کو میڈیکل معائنے کے لیے ریفر تو کیا تاہم متاثرہ خاندان کا مؤقف ہے کہ متعلقہ تھانے میں درخواست دینے کے باوجود مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور مسلسل تاخیر سے کام لیا گیا۔ خاندان کے مطابق پولیس کے اس رویے اور انصاف کی امید ختم ہونے پر خاتون شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئیں اور مبینہ طور پر زہریلی گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔معلوم ہواہےکہ 10 جولائی کو شمیم نامی خاتون کو ملزم اشفاق نے ساتھیوں سمیت زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ ایس ایچ او تھانہ بدھلہ عظیم ذوالفقار، سب انسپکٹر وسیم عباس نے درخواست کی سماعت کی، ایس ایچ او عظیم ذوالفقار نے رپٹ درج کی کہ متاثرہ خاتون کی جانب سے کوئی تحریری درخواست موصول نہیں ہوئی جبکہ ٹیگ نمبر BS1200 کے تحت خاتون کی درخواست موصول ہو چکی تھی پولیس نے متاثرہ خاتون کو میڈیکل کیلئے ڈاکٹ بھی جاری کیا پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا جبکہ وقوعہ کی تصدیق نہ ہونے کی رپٹ درج کردی اور تاحال میڈیکل کے نمونے بھی لیبارٹری جمع نہ کروائے۔خاتون نے مقدمہ درج نہ ہونے کی وجہ سےمبینہ طورپر دل برداشتہ ہوکر گولیاں کھالی جسکی وجہ سے موت واقع ہوگئی۔واقعے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد عوامی و سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کسی متاثرہ خاتون کو انصاف کے حصول کے لیے اس قدر مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔واقعے کاسخت نوٹس لیتے ہوئے نے فوری محکمانہ کارروائی کے احکامات جاری کیےابتدائی انکوائری میں مبینہ غفلت سامنے آنے پر تھانہ بدھلہ سنت کے ایس ایچ او عظیم ذوالفقار، سب انسپکٹر وسیم اور محرر نعیم کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیاجبکہ متعلقہ ڈی ایس پی ارشاد احمد کو بھی ان کے عہدے سے معطل کر دیا گیا تاکہ تحقیقات شفاف انداز میں مکمل کی جا سکیں۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ مبینہ زیادتی کے الزام میں نامزد ملزمان کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر کسی مرحلے پر مزید غفلت یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے شواہد سامنے آئے تو مزید ذمہ داران کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

خاتون کی خودکشی مقدمہ درج کرنا نہیں، گھریلووذاتی معاملات: ملتان پولیس

ملتان (نمائندہ خصوصی،کرائم رپورٹر)سوشل میڈیا اور بعض ذرائع ابلاغ پر تھانہ بدھلہ سنت کے علاقے میں خاتون شمیم اختر کی خودکشی کے واقعہ سے متعلق گردش کرنے والی مختلف قیاس آرائیوں پر ملتان پولیس نے وضاحتی بیان جاری کر دیا ۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق خاتون کی خودکشی کی وجہ پولیس کی جانب سے مقدمہ درج نہ کرنا نہیں بلکہ گھریلو اور ذاتی معاملات ہیں۔ترجمان ملتان پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 50 سالہ مرحومہ شمیم اختر اور 35 سالہ اشفاق کے درمیان گزشتہ تقریباً 13 برس سے تعلقات قائم تھے، جن سے اہلِ علاقہ بھی اچھی طرح آگاہ تھے تحقیقات کے دوران شمیم اختر نے یہ بیان بھی دیا تھا کہ اس کے سابق شوہر نے تقریباً 15 سال قبل اسے زبانی طلاق دی تھی جس کے بعد اس کا سابقہ شوہر سے کبھی رابطہ نہیں ہوا اور اس نے اشفاق کے ساتھ شرعی نکاح کر رکھا ہے۔تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ اشفاق کی پہلی شادی تقریباً دو سال قبل ہوئی تھی، تاہم پہلی اہلیہ کو جب شمیم اختر کے ساتھ تعلقات کا علم ہوا تو اس نے طلاق لے لی۔ بعد ازاں اشفاق نے تقریباً تین ماہ قبل دوسری شادی کی جس کے بعد شمیم اختر نے اشفاق کی نئی اہلیہ کو اپنے اور اشفاق کے باہمی تعلقات سے آگاہ کر دیا۔ اس بات پر مبینہ طور پر اشفاق کی اہلیہ، والدہ اور بہن نے شمیم اختر کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ دوسری جانب شمیم اختر کی اپنی بہو بھی اشفاق اور شمیم اختر کے ایک دوسرے کے گھروں میں آنے جانے پر ناراض ہو کر اپنے والدین کے گھر چلی گئی تھی۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران یہ اہم ترین شواہد بھی سامنے آئے ہیں کہ خودکشی کرنے سے قبل شمیم اختر نے اشفاق کو ایک وائس نوٹ بھیجا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ’’میرے پاس آ جاؤ، ورنہ میں گولیاں کھا کر اپنی زندگی ختم کر لوں گی۔‘‘پولیس نے اس وائس نوٹ کو تفتیش کا حصہ بنا لیا ہے اور تمام دستیاب شواہد کا قانونی و سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔وضاحتی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اب تک کی تحقیقات کے مطابق ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے جن سے یہ ثابت ہو کہ خودکشی کی وجہ پولیس کی جانب سے مقدمہ درج نہ کرنا تھی۔ بظاہر واقعہ کے پس منظر میں مرحومہ کے ذاتی اور گھریلو معاملات ہی کارفرما دکھائی دیتے ہیں تاہم خودکشی کی اصل وجوہات کے تعین کے لیے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کے تمام پہلوؤں کی جامع، غیر جانبدار اور میرٹ پر تفتیش جاری ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ ایس ایچ او سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کو بھی شاملِ تفتیش کیا گیا ہے تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد تمام حقائق شفاف انداز میں عوام کے سامنے لائے جائیں گے اور میرٹ پر بلاامتیاز قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں