بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر)بہاولپور سٹی میں صوبائی حکومت کی کروڑوں روپے مالیت کی کمرشل اراضی پر جو ریونیو ریکارڈ کے مطابق سرکاری ملکیت ہے، واپڈا اور سوئی گیس کے کنکشن جاری کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ دستیاب ریونیو ریکارڈ کے مطابق محلہ گاڑی بان، مستطیل نمبر 144/16، کِیلہ نمبر 21، 22، 23 اور مستطیل نمبر 145/13، کِیلہ نمبر 1، 2 اور 9 پر مشتمل تقریباً 18 کنال اراضی بدستور صوبائی حکومت کی ملکیت کے طور پر درج ہے۔رجسٹر حقدارانِ زمین برائے سال 2007-08، کھاتہ نمبر 243 اور کھتونی نمبر 379 تا 389 کے مطابق یہ اراضی صوبائی حکومت کی ملکیت ہےجبکہ کیفیت کالم میں محکمہ مال، دفتر ڈپٹی کمشنر اور پولیس نیشنل ورکشاپ کا اندراج بھی موجود ہے۔دستاویزی ریکارڈ کے مطابق مذکورہ اراضی پر اس وقت متعدد کمرشل دکانیں، پلازے اور رہائشی تعمیرات قائم ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسی اراضی پر واپڈا نے تھری فیز میٹر، ٹرانسفارمر اور دیگر بجلی کے کنکشن جاری کیے جبکہ سوئی گیس کے کنکشن بھی فراہم کیے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ متعلقہ درخواست گزاروں سے مقررہ فیسیں اور دیگر واجبات وصول کرنے کے بعد یوٹیلٹی سروسز مہیا کی گئیں حالانکہ ریونیو ریکارڈ میں اراضی صوبائی حکومت کی ملکیت کے طور پر درج ہے۔یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ مذکورہ مقام ایکسین واپڈا بہاولپور سٹی کے دفتر سے چند قدم کے فاصلے پر واقع ہے، اس کے باوجود سرکاری ملکیت کے ریکارڈ کی موجودگی میں بجلی اور گیس کے کنکشن جاری کیے جانے کے طریقہ کار پر مختلف قانونی اور انتظامی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق سرکاری اراضی پر مستقل نوعیت کے یوٹیلیٹی کنکشن جاری کرتے وقت متعلقہ اداروں کی جانب سے ملکیت اور قانونی حیثیت کی جانچ ایک اہم انتظامی تقاضا ہوتا ہے۔ اس تناظر میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ متعلقہ اداروں نے کن دستاویزات اور کس قانونی بنیاد پر بجلی اور سوئی گیس کے کنکشن منظور کیے، اور آیا ریونیو ریکارڈ میں درج ملکیت کی حیثیت کو درخواستوں کی جانچ کے دوران مدنظر رکھا گیا یا نہیں۔اس حوالے سے مؤقف جاننے کے لیے متعلقہ واپڈا اور سوئی گیس حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر کی اشاعت تک ان کا مؤقف موصول نہیں ہو سکا۔ مؤقف موصول ہونے کی صورت میں اسے بھی اسی اہمیت کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔جب کہ چیف میپکو ایسی واپڈا بہاولپور ایکسین بہاولپور سٹی اور متعلقہ وفاقی ادارے رقبہ سمائی حکومت پر وابڈا اور سوئی گیس کے کنکشن فراہم کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کریں کہ کس ریکارڈ کے تحت صوبائی حکومت کے رقبے پر وابدہ اور سوئی گیس کے کنکشن فراہم کیے گئے جس کی تحقیقات ہونا ضروری ہے جس سے کرپٹ مافیا اور اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے والے افسران کا تعین ہو سکے اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہو سکے۔







