محکمہ صحت ملتان میں 19 لاکھ کے بوگس بل، سابق ڈی ایچ او کی انکوائری رکوانے کی کوشش

ملتان (وقائع نگار) ڈپٹی کمشنر ملتان کی کھلی کچہری میں پیش ہونا محکمہ صحت کے ٹھیکیدار کومہنگا پڑ گیا ۔ سی ای او ہیلتھ ملتان میں لاکھوں روپے کی ہونے والی خریداری بوگس نکلی ۔ڈی ایچ او پی ایس نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں بھانڈا پھوٹ دیا ہے جبکہ ڈی ڈی ایچ اوز نے بھی پرچیز کمیٹی لیٹر پر اپنے دستخطوں کو جعلی قرار دے دیا ہے ۔دوسری جانب ڈپٹی کمشنر آفس نے محکمہ صحت کی جانب سے بھیجی جانے والی رپورٹ پر باضابط انکوائری شروع کردی ہے ۔واضح رہے کچھ روز قبل ڈپٹی کمشنر آفس ملتان میں سابق ڈی سی کے دور میں محکمہ صحت کا وینڈر کاشف نامی شخص 19 لاکھ روپے سے زائد کی بلوں کی ادائیگی کیلئے پیش ہوا ۔جس پر اسوقت کے ڈپٹی کمشنر ملتان نے ڈی ایچ او پی ایس ڈاکٹر جہانزیب خان سے رپورٹ طلب کی ۔انکوائری ملنے کے بعد فوری طور پر کاشف ٹھیکیدار کے بلوں اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی گئی تمام تر صورت حال کو چیک کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (پریونٹیو سروسز) ملتان نے ڈپٹی کمشنر /ایڈمنسٹریٹر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ملتان کو فائنل رپورٹ کا مراسلے جاری کیا ۔جس میں انہوں نے محکمہ صحت کے مالی معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں، مشتبہ بلوں اور ممکنہ خوردبرد کے خدشات پر فوری انکوائری اور قانونی کارروائی کی سفارش کی ہے،مراسلے کے مطابق پری آڈٹ کمیٹی کی رپورٹ اور متعلقہ افسران کے بیانات کی روشنی میں انکشاف ہوا کہ تقریباً 19 لاکھ 32 ہزار 840 روپے مالیت کے ایک بل پر متعلقہ افسران کے دستخط موجود نہیں جبکہ دونوں افسران نے تحریری طور پر اس بل سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ بل ان سے متعلق نہیں،دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال سے سرکاری ریکارڈ میں ممکنہ خوردبرد اور مالی بے ضابطگی کا شبہ پیدا ہوتا ہے جس کے باعث مالی سال 2025-26 کے دوران خریداری اور واجبات کے تمام ریکارڈ کی جامع جانچ، انکوائری اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی ناگزیر ہے تاکہ قومی خزانے کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے سفارش کی ہے کہ معاملے کی فوری تحقیقات کر کے اگر مزید جعلی یا مشتبہ ریکارڈ سامنے آئے تو ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔اس پر رپورٹ پر ڈپٹی کمشنر آفس میں انکوائری شروع ہوگئی ہے ۔مگر محکمہ صحت کے سابق ڈی ایچ او ڈاکٹر تیمور اس انکوائری کو اپنی گریڈ 18 کی بیورو کریٹ عزیزہ کے ذریعے رکوانے کی کوششوں میں ہیں ۔یاد رہے ڈاکٹر تیمور کے خلاف پہلے بھی اتائیوں سے بھتہ لینے جیسے بے تحاشہ شکایت ہیں ۔اسی طرح ان کے دوسرے بھائی ڈاکٹر عبداللہ خان کو کرپشن کی شکایت پر ایم ایس کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا ۔جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی ڈاکٹر تیمور اور ڈاکٹر عبداللہ کے خلاف اعلی حکام کو رپورٹ بنا کر بھیجی تھیں ۔شہریوں نے اس حالات پر ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ دو کرپٹ بھائیوں کے ٹولے کو محکمہ صحت سے نکال کر کھڈے لائن لگایا جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں