ساؤتھ پنجاب، نارتھ پنجاب اور لاہور کی کوئی تفریق نہیں، پنجاب کا ہر شہری میری ذمہ داری، مریم نواز

لاہور،پاکپتن (سٹاف رپورٹر، ڈسٹرکٹ رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بچوں سے پاکستان سے پیار کرنے کا وعدہ لیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا سپر ہیرو پکارکر سلام کرنے پر طلبہ نے پر جوش جواب دیا۔نواز شریف سکول آف ایمیننس میں داخلے ہوتے ہوئےدیکھ کر فرط جذبات سے آنکھیں بھر آئیں۔عارف والا میں نواز شریف سکول آف ایمیننس کے 10 سکولوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا بڑے بڑے مہنگے پرائیویٹ سکول والوں کے پاس ایسی شاندار عمارتیں نہیں ہیں۔ نواز شریف سکول آف ایمیننس میں کوالیفائیڈ پرنسپل، ٹیچر، اے آئی لیب، ایئر کنڈیشن کلاس روم ہیں۔ ذہین و فطین طلبہ کو برے حالات میں پڑھتے ہوئے دیکھ کر تکلیف ہوتی اور دل روتا تھا۔ روایتوں کی زنجیریں ٹوٹ رہی ہیں، پنجاب کی بیٹیاں آگے بڑھ رہی ہیں۔ وسائل کی کمی کی وجہ سے ذہین بچے آسمان کوچھونے سے رہ جاتے ہیں ۔پنجاب کے سب بچوں کو کہتی ہوں کہ آپ پڑھیں وسائل آپ کی ماں مریم نواز شریف فراہم کرے گی ۔وسائل کی کمی کوئی گناہ یا خامی نہیں،حکومت وسائل دے گی تاکہ بچے کی اڑان میں کمی نہ آئے۔ گواہ رہیں کہ ہم 300 نواز شریف سکول آف ایمیننس بنانے کا وعدہ پورا کررہے ہیں۔ اب کوئی بچہ وسائل کی کمی کا شکار ہے تو اس کے لئے نواز شریف سکول آف ایمیننس موجود ہے۔ا علیٰ تعلیم کے لئے وسائل نہیں تو ہونہار سکالر شپ موجود ہے۔ ڈگری کے بعد بزنس کے لئے قرضے دیں گے تاکہ ہرہاتھ کمانے والا بنے ۔پنجاب میں پانچ لاکھ طلبہ کو سکل ڈویلپمنٹ سیکھا رہے ہیں۔ ہنرمند بچوں کو ٹریننگ کے بعد خلیجی ممالک میں جانے کے لئے اخراجات کیلئے تین لاکھ روپے پرواز کارڈ کے ذریعے دے رہے ہیں۔ گلف جانے والے ہنر مند بچوں کے لئے نوکری کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔ وسائل اس لیے مہیا کررہے ہیں تاکہ پاکستان کاہر بیٹا اور بیٹی کامیاب بنے۔ مریم نواز نے پنجاب کے ہر بچے کا ہاتھ تھاما ہے، اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ عوام بالخصوص طلبہ نے جو عزت دی ہے ان کی راہیں آسان کرکے قرض چکانا چاہتی ہوں۔ سرکاری سکول ماضی کی حکومتوں کی نااہلی کے باعث تنزلی کا شکار تھے۔ 77 سال میں اتنا بجٹ کبھی نہیں دیا گیا جتنا اب دیا جارہا ہے۔ بچوں کو تعلیم اور روزگار کے لئے وسائل مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔بچے کہتے ہیں کہ سیاست کا شوق اور شعور نہیں، اگر سیاست نہیں سمجھو گے تو کیسے پتاچلے گا کہ کون اچھا اور برا ہے۔ پنجاب میں 49 ہزار سرکاری سکول ہیں،10 ہزار سکولوں کو اپ گریڈ کردیا گیا ہے،اب 300نواز شریف آف ایمیننس بن رہے ہیں۔ نواز شریف سکول آف ایمیننس لاہورجیسے بڑے شہروں میں نہیں بلکہ عارف والا، دینہ، بھکر جیسے شہروں میں بن رہے ہیں۔میرے نزدیک ساؤتھ پنجاب، نارتھ پنجاب اور لاہور کی کوئی تفریق نہیں، پنجاب کا ہر شہری مریم نوا زشریف کی ذمہ داری ہے۔ اگر بچوں کو وسائل اجازت نہیں دیتے تو لیپ ٹاپ اور آئی پیڈ حکومت دے گی۔ پنجاب کے طلبہ کو ایک لاکھ الیکٹرک بائیک دینے جارہے ہیں۔ لڑکوں کو ڈاؤن پیمنٹ کے طور پر15ہزار دینا ہوگا، لڑکیوں سے ڈاؤن پیمنٹ نہیں لیں گے۔ والدین سے درخواست ہے کہ بچوں کی حفاظت کریں، غیر محفوظ جگہوں پر نہ بھیجیں۔ کاہنہ میں مزدور چھت پر کام کررہے تھے اور بچے نیچے موجود تھے۔سانحہ کاہنہ کے بعد مجھے تین دن نیند نہیں آئی، بچے ڈرین، نالے اور گٹر میں گر جائیں تو بہت تکلیف ہوتی ہے اور ڈی سی کمشنر کے پیچھے پڑ جاتی ہوں۔ دن میں مین ہول کے ڈھکن لگائے جاتے ہیں رات کوکوئی نا کوئی چورا لیتا ہے۔حکومت کے ساتھ ساتھ ڈھکن کی حفاظت عوام کی بھی ذمہ داری ہے۔اگر آپ کے پاس ایئرکنڈیشن کی سواری کے وسائل نہیں تو آپ کے سامنے سڑک پر جدید ترین الیکٹرک بس آئے گی۔مجھے یقین ہے کہ اب لوگ فخر سے کہیں گے کہ ہم پنجاب کے سرکاری سکول میں پڑھتے ہیں۔ یہاں کسی کا معاشی بیک گراؤنڈ دیکھے بغیر 100فیصد فری تعلیم دی جارہی ہے۔ میرا پختہ یقین ہے کہ تعلیم بہترین مساوات قائم کرتی ہے، تعلیم سے زندگی کے راستے کھلتے ہیں۔ نواز شریف سکول آف ایمیننس میں ہزار داخلے کیلئے پانچ پانچ ہزار بچوں نے انٹری ٹیسٹ دیا۔ نواز شریف سکول آف ایمیننس میں ڈی ایس پی کا بچہ بھی پڑھے گااور مزدور کا بچہ بھی پڑھے گا۔ پنجاب کے سکولوں میں ابتدائی کلاسوں میں ہی آرٹی فیشل انٹیلی جنس پڑھائی جارہی ہے تاکہ ترقی کے دروازے کھل جائیں۔پنجاب پہلا صوبہ ہے جہاں وزیر تعلیم کا بیٹا سرکاری سکول میں پڑھتا ہے، پنجاب نے یہ طبقاتی تفریق ختم کر دی ہے۔جنوبی پنجاب کے سکولوں کا دورے کیے تو پتہ چلا کہ غریب گھر انوں کے بچے ناشتہ نہیں کرکے آتے جس وجہ سے بیہوش ہوجاتے تھے۔ جنوبی پنجاب کے 12 لاکھ بچوں کو ملک پیک اور بسکٹ ملنے سے انرولمنٹ بڑھ رہی ہے، 25لاکھ بچوں کے مزید داخلے ہوئے۔ جہاں کسی نے خواب نہیں دیکھا وہاں وائی فائی اور ایئرکنڈیشن والی گرین بس چل رہی ہے۔ خواتین کو گرین بس میں خوف اور ہراسانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ گرین بس طلبہ، خواتین اور بزرگوں کے لئے فری ہے۔ 1100 الیکٹرو بسیں آچکی ہے، 1500مزید آئیں گی، اس سال تین سو الیکٹرو بسیں دیں گے۔ مریم نوا ز لاہور کی نہیں پورے پنجاب کی وزیراعلیٰ ہے۔ پنجاب بھر میں سیوریج اور بارشی پانی کی نکاسی کے لئے نیاڈرینج سسٹم بنا رہے ہیں، 60 سال تک کسی نے توجہ نہیں دی۔میں لیہ، بھکر،اور راجن پور میں نہیں رہتی مگر مجھے ان لوگوں کا پورا احساس ہے۔پنجاب کے اگر کسی شہری کو فوری ضرورت ہوتو مریم کو بتائیں ایپ پر رجوع کریں، تین دن کے اندر مدد گھر پہنچ جائے گی۔ اتنا کچھ کرنے کے باوجود لگتا ہے کہ کچھ نہیں کیا لیکن بہت کچھ کرنا چاہتی ہوں عوام کو حقیقی ماں اور مریم نواز شریف میں فرق محسوس نہیں ہوگا۔ بچوں سے کہتی ہوں کہ ملک کو جلانے والوں اور پولیس پر حملہ کرنے کا ساتھ نہ دیں، اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت کرے۔آمین۔قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب کے پانچ اضلاع میں گرین الیکٹرک بس سروس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا ہے کہ لیہ، چنیوٹ، سیالکوٹ، اوکاڑہ اور مری میں گرین الیکٹرک بس سروس کا آغاز کر دیا گیا ہےجبکہ پنجاب کے تمام شہروں اور تحصیلوں میں مرحلہ وار الیکٹرک بسیں چلائی جا رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ عوام کو آرام دہ، محفوظ اور کم خرچ سفری سہولت میسر آئی ہے، یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم ہے، جبکہ مری میں بھی پہلی مرتبہ الیکٹرک بس سروس شروع کی جا رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ الیکٹرک بسوں میں بزرگ شہریوں، خواتین اور طلبہ کے لیے خصوصی رعایت کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی 101 نئی الیکٹرک بسیں بھجوائی جا رہی ہیںجبکہ آئندہ پانچ برسوں میں صوبے بھر میں 5 ہزار الیکٹرک بسیں چلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

عارفوالا:مریم نواز کے ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ کے دوران دیوار گر گئی

عارفوالا(قوم نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ کے دوران ایک دیوار گر گئی تاہم ہیلی کاپٹر محفوظ رہا۔مریم نواز گزشتہ روز پاکپتن کی تحصیل عارفوالا میں نواز شریف سکول کی افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے پہنچی تھیں۔

عارفوالا:وزیراعلیٰ مریم نوازکے ہیلی کاپٹرکی لینڈنگ کامنظر،دوسری جانب دیوارگری ہوئی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں