تہران: ایران نے حالیہ امریکی فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ بندی سے متعلق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) اب ختم ہو چکی ہے اور موجودہ حالات میں اس پر عمل درآمد ممکن نہیں رہا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ تہران نے کبھی بھی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی نہیں کی، تاہم امریکا نے بارہا معاہدے کی شرائط کو پامال کیا۔ ان کے مطابق جب تک واشنگٹن اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا، ایران بھی ایم او یو پر عمل کرنے کا پابند نہیں ہوگا۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ امریکا کے تازہ حملے اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کے منافی ہیں، جن سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و استحکام کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے مختلف فوجی اہداف پر نئی کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔
ایران نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ واشنگٹن نے کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی مداخلت کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید غیر مستحکم ہوئی، جس کے اثرات عالمی تجارت اور بین الاقوامی جہاز رانی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی مستقبل میں مشرق وسطیٰ، عالمی توانائی کی منڈیوں اور سفارتی روابط پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔







