مشرقی پنجاب میں بندوقوں کی گھن گرج آہستہ آہستہ کم ہو رہی تھی مگر خاموشی کے نیچے دفن ہونے والی کہانیاں ابھی زندہ تھیں۔ سڑکوں پر چیک پوسٹیں تھیں، دیہات میں خوف تھا، گھروں میں انتظار تھا اور ہزاروں خاندان ایسے تھے جن کے پیارے ایک روز گھر سے نکلے، پولیس کی گاڑی میں بیٹھے یا نامعلوم افراد انہیں لے گئے مگر پھر کبھی واپس نہ آئے۔ سرکاری ریکارڈ میں ان میں سے بہت سے افراد کا کوئی وجود نہیں تھالیکن ان کے والدین، بیویاں اور بچے آج بھی انہیں زندہ مانتے تھے۔
یہیں سے ایک ایسے شخص کا سفر شروع ہوا جس کا نام بعد میں انسانی حقوق کی تاریخ میں نمایاں ہو گیا۔جسونت سنگھ کھالڑاکسی سیاسی جماعت کے رہنما نہیں تھے، نہ ہی وہ کسی مسلح تنظیم سے وابستہ تھے۔ وہ امرتسر کے ایک بینک میں ملازم تھےمگر سماجی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے تھے اور سکھ مذہبی و سماجی اداروں سے وابستگی رکھتے تھے۔ ان کی زندگی کا رخ اس وقت بدلا جب متعدد خاندان اپنے لاپتا عزیزوں کی تلاش میں ان کے پاس پہنچنے لگے۔ان خاندانوں کے پاس ایک ہی سوال تھا: ’’ہمارا بیٹا کہاں ہے؟‘‘پولیس کے پاس جواب نہیں تھا، عدالتوں میں مقدمات آگے نہیں بڑھ رہے تھےاور کئی کیسوں میں سرکاری ریکارڈ ہی موجود نہیں تھا۔ کھالڑا نے ان شکایات کو محض جذباتی داستان سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا بلکہ دستاویزی ثبوت تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے پنجاب کے مختلف شمشان گھاٹوںخاص طور پر امرتسر کےدُرگیا نا مندر شمشان گھاٹ سمیت دیگر مقامات کے سرکاری ریکارڈ کا جائزہ لینا شروع کیا۔ وہاں موجود رجسٹروں میں ایسے اندراجات ملنے لگے جن میں بڑی تعداد میں ’’نامعلوم‘‘ یا ’’لاوارث‘‘ لاشوں کی آخری رسومات درج تھیں۔
کھالڑا کا دعویٰ تھا کہ ان رجسٹروں میں موجود اندراجات اور لاپتا افراد کی شکایات آپس میں جڑتی ہیں۔ انہوں نے مختلف دستاویزات اکٹھی کرنا شروع کیں اور متعدد میڈیا اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں کو اس معاملے سے آگاہ کیا۔یہیں وہ جملہ سامنے آیا جو بعد میں پوری دنیا میں نقل کیا گیا۔ کھالڑا نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں ہزاروں افراد کو ماورائے عدالت قتل کر کے ’’نامعلوم لاشیں‘‘ قرار دے کر ان کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔ مختلف مواقع پر انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ ایسے کیسز کی تعدادہزاروںمیں ہے۔ بعد میں ان کے حوالے سے 25 ہزار کا عدد بھی بہت مشہور ہوا، تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ مختلف رپورٹس اور ذرائع اس تعداد کے بارے میں مختلف اعداد پیش کرتے ہیں اور اس پر مکمل اتفاق موجود نہیں۔ان کی تحقیقات نے صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کرنا شروع کر دی۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے ان کے انکشافات میں دلچسپی لی۔ سکھ تارکین وطن کی تنظیموں نے بھی ان کے مؤقف کو اجاگر کرنا شروع کیا۔ میڈیا میں پہلی مرتبہ پنجاب کے شورش زدہ دور میں ماورائے عدالت ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں پر کھل کر بحث ہونے لگی۔
کھالڑا نے متعدد پریس کانفرنسوں میں مطالبہ کیا کہ اگر کوئی شخص دہشت گرد تھا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور سزا دی جائےلیکن اگر کسی کو گرفتار کرنے کے بعد قتل کیا گیا اور پھر اس کی شناخت تک مٹا دی گئی تو یہ قانون اور آئین دونوں کی خلاف ورزی ہے۔یہی وہ مرحلہ تھا جب ان کی سرگرمیاں ریاستی اداروں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنتی چلی گئیں۔
6 ستمبر 1995ء کو جسونت سنگھ کھالڑا اپنے گھر کے باہر موجود تھے جب مبینہ طور پر پنجاب پولیس کے اہلکار انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ عینی شاہدین میں ان کی اہلیہ اور اہل خانہ بھی شامل تھے۔ اس کے بعد وہ کبھی واپس نہ آئے۔ابتدا میں سرکاری سطح پر ان کی گرفتاری سے انکار کیا گیا۔ کئی ماہ تک ان کا کوئی سراغ نہ ملا۔ ان کی اہلیہ پرم جیت کور نے مسلسل عدالتوں، میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رجوع کیا۔ یہی وہ جدوجہد تھی جس نے اس کیس کو زندہ رکھا۔بالآخر معاملہ عدالت تک پہنچا اور سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (CBI) کو تحقیقات کا حکم دیا گیا۔ سی بی آئی کی تحقیقات میں متعدد پولیس اہلکاروں کے نام سامنے آئے۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ کھالڑا کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا، ان پر تشدد کیا گیا اور بعد میں انہیں قتل کر دیا گیا۔
یہ مقدمہ کئی برس تک چلتا رہا۔ بالآخر مختلف عدالتی فیصلوں میں پنجاب پولیس کے متعدد اہلکاروں کو مجرم قرار دیا گیا۔ بعض افسران کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جبکہ ایک سینئر پولیس افسر نے عدالتی کارروائی کے دوران خودکشی کر لی۔ یہ مقدمہ بھارت کی عدالتی تاریخ میں اس لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے کہ پہلی مرتبہ ایک معروف انسانی حقوق کے کارکن کی گمشدگی اور قتل میں پولیس اہلکاروں کو سزا ملی۔
تاہم اس فیصلے کے باوجود کئی سوالات جواب طلب رہے۔اگر کھالڑا درست تھے تو ان کے تمام دعوئوں کی مکمل تحقیقات کیوں نہ ہو سکیں؟اگر وہ غلط تھے تو پھر انہیں عدالت میں اپنے دلائل پیش کرنے کا موقع کیوں نہ ملا؟اگر ماورائے عدالت ہلاکتیں نہیں ہوئیں تو پھر نامعلوم لاشوں کے اتنے ریکارڈ کیوں موجود تھے؟اور اگر ہوئیں تو ان تمام متاثرہ خاندانوں کو مکمل انصاف کب ملے گا؟یہی سوال آج بھی انسانی حقوق کی تنظیمیں اٹھاتی ہیں۔جسونت سنگھ کھالڑا کی اہلیہ پرم جیت کور نے بھی اپنے شوہر کی جدوجہد کو جاری رکھا۔ انہیں بعد میں بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے حوالے سے متعدد اعزازات اور پذیرائی ملی۔ کھالڑا فاؤنڈیشن بھی قائم کی گئی جو آج بھی انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم ہے۔
2021ء میں ہدایت کارہنی تریہن نے انہی واقعات پر مبنی فلم ’’پنجاب 95‘‘مکمل کی جس میں دلجیت دوسانجھ نے جسونت سنگھ کھالڑا کا کردار ادا کیا۔ فلم کو سنسر بورڈ کی جانب سے متعدد اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم میں سو سے زائد ترامیم تجویز کی گئیںجن کے باعث اس کی نمائش طویل عرصے تک مؤخر رہی۔
بعدازاں یہی فلم’’ستلج‘‘ کے نام سے منظرعام پر آئی۔ فلم کے حامیوں کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس نے طاقتور نظام کے سامنے سچ بولنے کی قیمت اپنی جان دے کر ادا کی۔ دوسری جانب ناقدین کا مؤقف تھا کہ فلم بعض تاریخی اور سیاسی واقعات کو یک طرفہ انداز میں پیش کرتی ہے اور اس سے خالصتان سے متعلق حساس بیانیے کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔3جولائی 2026ء کو جب فلم مختصر مدت کے لیے ایک او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر دستیاب ہوئی تو چند ہی گھنٹوں میں یہ بحث دوبارہ زندہ ہو گئی۔ فلم ہٹ گئی مگر سوال باقی رہ گئے۔کیونکہ بعض فلمیں صرف کہانی نہیں ہوتیں وہ قوموں کے حافظے میں دبی ہوئی یادیں بھی جگا دیتی ہیں۔ ’’ستلج‘‘بھی انہی فلموں میں شامل ہو گئی جس نے ایک مرتبہ پھر پنجاب، آپریشن بلیو سٹار، سکھ سیاست، انسانی حقوق اور خالصتان تحریک کو عالمی بحث کا موضوع بنا دیا۔لیکن سوال اب بھی وہی ہے جو جسونت سنگھ کھالڑا نے برسوں پہلے پوچھا تھا:ریاستیں طاقت سے امن تو قائم کر سکتی ہیںمگر کیا انصاف کے بغیر تاریخ کو خاموش بھی کرا سکتی ہیں؟(جاری ہے)







