ملتان ( وقائع نگار) نشتر ہسپتال میں نجی کمپنی کی جانب سے کروڑوں روپے کی لاگت سے نصب ہونے والی ٹیسٹ مشین کا اکثر وبیشتر مبینہ غلط رزلٹ دینے کا انکشاف ہوا ہے۔مریض ٹیسٹوں کے ذریعے درست تشخیص نہ ہونے سے پریشان ۔مجبورا بازار سے مہنگے داموں ٹیسٹ کروانے پڑ رہے ہیں۔جبکہ دوسری جانب نشتر ہسپتال انتظامیہ نے ان گنت شکایت اور دو سالوں میں کنٹریکٹ کی شقوں پر پورا نا اترنے پر نجی کمپنی کے مزید کنٹریکٹ کو توسیع کرنے کی بجائے دوبارہ ٹینڈر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تاکہ اعلیٰ معیار مل سکے ۔ لیکن نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے چند چہیتے ڈاکٹرز نے خاص مقصد کے لئے ری ٹینڈر کرنے کے پراسس میں روڑے اٹکانے شروع کردئیے ہیں تاکہ کوئی نا کوئی طریقہ نکال کر پہلے والی کمپنی کے کنٹریکٹ میں دوبارہ توسیع کردی جائےاور اسی حوالے سے چہیتوں نے آج میٹنگ بلوا رکھی ہے۔چپکے چپکے فائدہ حاصل کیا جاسکے ۔باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہےکہ نشتر ہسپتال کے سابق ایم ایس کو ڈی سی آفس ملتان اور مریضوں کی طرف سے ان گنت بار تحریری اور زبانی شکایت موصول ہوئیں تھیںکہ نشتر ہسپتال میں اس وقت جو لیبارٹری میں مشین مریضوں کے ٹیسٹوں کے رزلٹ دی رہی ہے ۔اس کا نتیجہ اکثر و بیشتر بار ٹھیک نہیں ہے ۔کچھ ایسی ہی شکایت اور دو سالوں میں کنٹریکٹ کی شقوں پر پورا نا اترنے پر سابق ایم ایس نے شوکاز نوٹس بھی جاری کیا تھامگر پھر معاملہ چپ ہوگیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیسٹوں کا نتیجہ ٹھیک نا ہونے کی وجہ سے ڈاکٹرز مریضوں کو بازار سے دوبارہ کسی مستند نجی لیبارٹری سے ٹیسٹ کرواتے کا کہتے ہیں ۔جب اس ٹیسٹ کی رپورٹ آتی ہے ۔تو پھر نشتر ہسپتال والی ٹیسٹ رپورٹ اور نجی لیبارٹری کی ٹیسٹ رپورٹ کا موازنہ کیا جاتا ہے ۔تو اس موقع پر پتہ چلتا ہے کہ ٹیسٹ رپورٹ میں نمایاں فرق ہے اور مریضوں کو مہنگے داموں کے ذریعے ٹیسٹ کرواکر رقم کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔ذرائع نے مزید بتایا ہے نشتر ہسپتال انتظامیہ نے ان گنت شکایت اور کنٹریکٹ کے شقوں پر دو سالوں میں عمل درآمد نہ کرنے پر لیبارٹری مشین کا دوبارہ ٹینڈر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔مگر نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے چہیتوں نے اس پراسس میں روڑے اٹکانے کیلئے آج ایک میٹنگ بھی بلوا رکھی ہے ۔جس میں پہلے والی نجی کمپنی کے کنٹریکٹ میں توسیع دلوانے کیلئے مشورہ کیا جائے گا۔اور یونیورسٹی سربراہ کو گمراہ کرکے خود فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں ۔واضح رہے نشتر ہسپتال میں سال 2023 میں اس نجی کمپنی نے ٹوٹل لیب آٹومیشن مشین نصب کی تھی ۔جبکہ معاہدے کے مطابق مشین فری تھی مگر نشتر ہسپتال کو سالانہ سات سے آٹھ کروڑ روپے کی ٹیسٹوں کی کٹس انہیں کمپنی سے خریدنا تھیں ۔دوسری جانب نشتر ہسپتال کے بیشتر ڈاکٹروں اور شہریوں نے ارباب اختیار کو مذکورہ صورت حال ہر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔







