تاریخ صرف کتابوں میں نہیں لکھی جاتی، کبھی وہ عدالتوں کی فائلوں میں دب جاتی ہے، کبھی کسی ماں کی آنکھوں میں جمے آنسوؤں میں زندہ رہتی ہے، کبھی کسی لاپتا شخص کے انتظار میں دروازے پر نظریں جمائے خاندان کی خاموشی میں سانس لیتی ہے اور کبھی ایک فلم کی صورت میں پردۂ سیمیں پر ابھر کر پورے معاشرے سے سوال کرنے لگتی ہے۔بالی ووڈ فلم ’’ستلج‘‘ بھی ایک ایسا ہی سوال ہے جس نے بھارت میں آزادیٔ اظہار، ریاستی اختیارات، انسانی حقوق اور تاریخ کے ایک متنازع باب کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ یہ صرف ایک فلم نہیں بلکہ اس دور کی بازگشت ہے جب بھارتی پنجاب دہشت گردی، ریاستی آپریشنز، خوف، لاپتا افراد اور انسانی حقوق کی سنگین بحثوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔
دلجیت دوسانجھ کی اداکاری سے مزین یہ فلم ابتدا میں’’ پنجاب 95‘‘ کے نام سے تیار کی گئی تھی۔ فلم کی بنیاد معروف سکھ انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی پر رکھی گئی، جنہوں نے 1990 کی دہائی میں بھارتی پنجاب میں مبینہ طور پر ماورائے عدالت قتل ہونے والے افراد اور ان کی خفیہ آخری رسومات کے حوالے سے تحقیقات کیں۔ فلم کی تیاری مکمل ہونے کے بعد اس کا سفر سینما گھروں تک پہنچنے سے پہلے ہی تنازعات میں گھر گیا۔ بھارتی سنسر بورڈ نے فلم پر درجنوں اعتراضات اٹھائے، متعدد مناظر حذف کرنے کا مطالبہ کیا اور فلم کی کہانی میں بنیادی تبدیلیاں تجویز کیں۔ فلم سازوں کا مؤقف تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں کٹ لگانے کے بعد فلم اپنی اصل روح کھو دے گی جبکہ مودی سرکار کا مؤقف تھا کہ حساس تاریخی واقعات کو ایسے انداز میں پیش نہیں کیا جا سکتا جس سے ریاستی اداروں کے بارے میں یک طرفہ تاثر پیدا ہو یا قومی سلامتی کے معاملات متاثر ہوں۔
تقریباً تین برس تک فلم ریلیز نہ ہو سکی۔ بالآخر جولائی 2026 میں اسے’’ستلج‘‘ کے نام سے ایک او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر جاری کیا گیا لیکن صرف چند گھنٹوں بعد اسے ہٹا لیا گیا۔ فلم کے ہٹائے جانے نے اس کے بارے میں عوامی دلچسپی مزید بڑھا دی۔ سوشل میڈیا پر اس کے کلپس گردش کرنے لگے، فلم کے حق اور مخالفت میں مہمات چلیں اور ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھنے لگا کہ کیا تاریخ کے متنازع ابواب پر فلم بنانا آزادیٔ اظہار کا حق ہے یا قومی سلامتی سے جڑا ایسا معاملہ جس پر ریاست کو مداخلت کا اختیار حاصل ہے؟
فلم کا مرکزی کردار جسونت سنگھ کھالڑا ایک ایسا شخص ہے جو پیشے کے اعتبار سے کوئی سیاست دان، جرنیل یا مسلح تنظیم کا رہنما نہیں بلکہ ایک عام شہری ہے۔ وہ ایک بینک ملازم تھا لیکن حالات نے اسے انسانی حقوق کی جدوجہد کی علامت بنا دیا۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ جب مختلف خاندان اپنے لاپتا بیٹوں، بھائیوں اور شوہروں کی تلاش میں دربدر پھرتے ہیں تو کھالڑا ان کی فریاد کو ذاتی مشن بنا لیتا ہے۔ وہ سرکاری ریکارڈ، شمشان گھاٹوں کے رجسٹر، مقامی دستاویزات اور عینی شاہدین کے بیانات کو اکٹھا کرنا شروع کرتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کے سامنے ایسے شواہد آتے ہیں جن سے یہ دعویٰ ابھرتا ہے کہ متعدد افراد کو دہشت گرد قرار دے کر قتل کیا گیا اور بعد میں انہیں لاوارث قرار دے کر خفیہ طور پر جلا دیا گیا۔
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ فلم ایک تخلیقی پیشکش ہےجبکہ حقیقی تاریخ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ 1980 اور 1990 کی دہائی کا بھارتی پنجاب صرف ایک رخ نہیں رکھتا تھا۔ ایک طرف علیحدگی پسند مسلح تنظیمیں تھیں۔ دوسری طرف بھارتی ریاست نے عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے سخت سکیورٹی آپریشن کیے۔ انہی آپریشنز کے دوران متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں نے ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں اور غیر قانونی حراستوں کے الزامات عائد کیے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں جسونت سنگھ کھالڑا کا نام سامنے آتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جسونت سنگھ کھالڑا نے 1990 کی دہائی میں امرتسر اور دیگر علاقوں کے شمشان گھاٹوں سے متعلق ریکارڈ جمع کیا اور دعویٰ کیا کہ ہزاروں ایسے افراد کی آخری رسومات سرکاری نگرانی میں ادا کی گئیں جن کی شناخت یا قانونی کارروائی کا کوئی مکمل ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ ان کے انکشافات نے بھارت ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرائی۔ بعدازاں 1995 میں وہ خود لاپتا ہو گئے۔ بعد کی تحقیقات، عدالتی کارروائی اور سی بی آئی کی تفتیش کے نتیجے میں بعض پولیس اہلکاروں کو ان کے اغوا اور قتل کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ یہ مقدمہ بھارت کی عدالتی تاریخ میں انسانی حقوق کے نمایاں مقدمات میں شمار ہوتا ہے۔
فلم ’’ستلج‘‘ اسی حقیقت کو اپنے ڈرامائی انداز میں بیان کرتی ہے۔ فلم میں جسونت صرف ایک فرد نہیں بلکہ ضمیر کی آواز بن جاتا ہے۔ اس کے سامنے طاقتور ریاستی مشینری ہے، خوف زدہ معاشرہ ہے، خاموش عدالتیں ہیں، بے بس خاندان ہیں اور وہ سوال ہے جس کا جواب کوئی دینا نہیں چاہتا۔ فلم کا ہر منظر اس کشمکش کو نمایاں کرتا ہے کہ جب ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد ختم ہو جائے تو سب سے پہلے سچ بولنے والا شخص تنہا رہ جاتا ہے۔
فلم کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس میں پنجاب کی شورش کے صرف ایک پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے جبکہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے ہزاروں عام شہری، پولیس اہلکار اور سرکاری ملازمین کی قربانیوں کو مناسب جگہ نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق اگر اس دور کو سمجھنا ہے تو صرف ریاستی کارروائیوں کا نہیں بلکہ علیحدگی پسند تنظیموں کی پرتشدد سرگرمیوں کا بھی ذکر ضروری ہے۔ دوسری جانب فلم کے حامی کہتے ہیں کہ دہشت گردی پر تو پہلے ہی بے شمار فلمیں اور دستاویزی پروگرام بن چکے ہیںلیکن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار کی جاتی رہی، اس لیے’’ستلج‘‘ ایک ضروری سوال اٹھاتی ہے۔
یہی اختلاف اس فلم کو عام فلموں سے مختلف بنا دیتا ہے۔ یہاں ہیرو کسی دشمن کو شکست نہیں دیتا بلکہ سوال پوچھتا ہے۔ وہ بندوق نہیں اٹھاتا بلکہ فائلیں اٹھاتا ہے۔ وہ عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتا ہے، ریکارڈ اکٹھا کرتا ہے اور ان لوگوں کی آواز بنتا ہے جن کے پاس نہ طاقت ہے نہ وسائل اور نہ ہی کوئی سیاسی پشت پناہی۔
بھارت میں فلم کی مختصر نمائش اور بعد ازاں اس کا ہٹایا جانا اس بات کی علامت بن گیا کہ تاریخ کے بعض ابواب آج بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ فلم پر پابندی کے بعد ایک نئی بحث نے جنم لیا کہ کیا ریاست کو قومی سلامتی کے نام پر ایسے فن پاروں کو محدود کرنے کا اختیار ہونا چاہیے یا پھر جمہوری معاشرے میں تاریخ کے ہر پہلو پر مکالمے کی اجازت ہونی چاہیے۔ یہ بحث صرف بھارت تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں مختلف تاریخی واقعات پر بنی فلموں کے حوالے سے سامنے آتی رہی ہے۔ ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس فلم نے تین دہائیاں پرانے زخموں کو دوبارہ گفتگو کا موضوع بنا دیا ہے۔
شاید یہی کسی طاقتور فلم کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ وہ اختتام پر جواب نہیں دیتی بلکہ سوال چھوڑ جاتی ہے۔’’ستلج‘‘بھی یہی کرتی ہے۔ یہ ناظر سے پوچھتی ہے کہ کیا تاریخ کو خاموش کیا جا سکتا ہے؟ کیا سوال پوچھنے والے ہمیشہ غلط ہوتے ہیں؟ کیا ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد صرف طاقت سے قائم رہ سکتا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر کسی معاشرے میں ماضی کے زخموں پر کھل کر بات نہ ہو سکے تو کیا وہ زخم کبھی بھر بھی سکتے ہیں؟
یہ سوال صرف فلم کے نہیں پورے برصغیر کی سیاسی تاریخ کے سوال ہیں۔ انہی سوالوں کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں فلم کے پردے سے نکل کر اس حقیقی تاریخ کی طرف جانا ہوگا جہاں خالصتان تحریک نے جنم لیا، جہاں بھارتی پنجاب کی سیاست نے نیا رخ اختیار کیا، جہاں مذہب، شناخت، سیاست اور طاقت ایک دوسرے سے ٹکرائے اور جہاں سے ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے آنے والی کئی دہائیوں تک پورے خطے کو متاثر کیا۔ یہی وہ پس منظر ہے جس کے بغیر نہ’’ستلج‘‘ کو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی جسونت سنگھ کھالڑا کی جدوجہد کو۔(جاری ہے)







