بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر)ضلع بہاولپور کے مختلف علاقوں میں مبینہ طور پر غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سکیموں، کچی کٹنگ، کمرشل پلازوں، ہاسٹلز اور دیگر تجارتی عمارتوں کو قواعد و ضوابط کے برعکس بجلی کے کنکشن فراہم کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیںجس سے قومی خزانے کو لاکھوں روپے کے نقصان اور بجلی کے نظام میں بے ضابطگیوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق ریاض کالونی، نزد یونیورسٹی چوک، موضع باقرپور، قادر بخش چنر، عقب جیل سائیڈ سمیت متعدد علاقوں میں غیر منظور شدہ ٹاؤنز اور کچی کٹنگ پر قائم عمارتوں کو مبینہ طور پر بجلی فراہم کی جا رہی ہے، حالانکہ متعلقہ ہاؤسنگ اسکیمیں بلدیاتی اداروں یا دیگر مجاز اتھارٹیز سے باقاعدہ منظور شدہ نہیں۔مزید الزام ہے کہ بعض کمرشل پلازوں، ہاسٹلز اور نجی ہسپتالوں میں کمرشل ٹیرف کے بجائے گھریلو (A-1) کنکشن استعمال کیے جا رہے ہیںجبکہ بعض مقامات پر ایک ہی عمارت میں دو یا تین بجلی میٹر نصب ہونے کے باوجود ان کے استعمال اور لوڈ کی جانچ مؤثر انداز میں نہیں کی جاتی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض صارفین A-2 یا دیگر کنکشن صرف چیکنگ کے لیے ظاہر کرتے ہیںجبکہ اصل بجلی کی کھپت A-1 میٹر سے جاری رہتی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی متعلقہ اداروں نے تاحال تصدیق نہیں ھویشہری حلقوں کا کہنا ہے کہ عام صارفین کے لیے اضافی میٹرز اور نئے کنکشن کے حصول کے لیے سخت شرائط نافذ ہیں، اس لیے یہ تحقیقات ضروری ہیں کہ بعض کمرشل عمارتوں میں ایک سے زائد میٹر کس قانونی اختیار کے تحت نصب کیے گئے اور ان کی منظوری کس نے دی۔قانونی ماہرین کے مطابق نیپرا کےConsumer Service Manual اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے قواعد کے تحت بجلی کا ہر کنکشن صرف اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس مقصد کے لیے وہ منظور کیا گیا ہو۔ اگر کوئی کمرشل سرگرمی گھریلو ٹیرف پر بجلی استعمال کرے یا کنکشن کی نوعیت تبدیل کیے بغیر تجارتی استعمال کرے تو یہ قواعد کی خلاف ورزی شمار ہو سکتی ہے۔ اسی طرح غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سکیموں یا ایسی آبادیوں کو بجلی کی فراہمی سے قبل متعلقہ قانونی تقاضے، اراضی کی حیثیت، اور مجاز اداروں کی منظوری کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔
منظوری تقسیم کار کمپنی کے مقررہ قواعد اور تکنیکی شرائط کے مطابق ہونا ضروری ہے۔غیر منظور شدہ ہاؤسنگ اسکیموں میں بجلی کی فراہمی کے لیے متعلقہ اتھارٹیز کی قانونی منظوری اور تقسیم کار کمپنی کے ضوابط کی پابندی ضروری ہوتی ہے؛ خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔







