لاہور ( روزنامہ قوم ریسرچ سیل) حکومت پنجاب کے کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کے عملے کی ملی بھگت سے گورنمنٹ آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی رائیونڈ روڈ لاہور کی جعلی مینجمنٹ کمیٹی نے سابق ایڈیشنل آئی جی پولیس، سابق ڈی آئی جی اور دیگر اعلیٰ افسران سمیت مجموعی طور پر 580 الاٹیان کے پلاٹوں میں ہیر پھیر کرکے اربوں روپے کا فراڈ کر لیا ۔ اس اربوں روپے کے فراڈ کے بارے میں جو گزشتہ دو سال سے جاری ہے، مکمل معلومات رکھنے کے باوجود کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے مکمل خاموشی اور پشت پناہی کا ماحول بنائے رکھا گیا۔ پنجاب گورنمنٹ آفیسرز ہاؤسنگ سوسائٹی کے منتخب صدر جن کا نام ایمان ورک ہے جو خود تو امریکا میں مقیم ہیں مگر انہوں نے ندیم اکرام ورک نامی ایک جعل ساز کو غیر قانونی طور پر کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کے عملے کی ملی بھگت سے اس سوسائٹی کا صدر نامزد کر دیا جنہوں نے سوسائٹی کا تمام تر ریکارڈ غائب کر دیا اور سینکڑوں پلاٹوں کی اوریجنل فائلیں اپنے گھر شفٹ کرکے سوسائٹی کے دفتر کا بورڈ اپنے گھر پر لگا کر وہیں دفتر بنا لیا۔ ندیم اکرام ورک نامی فراڈیئے کے ہاتھوں لٹنے والوں میں 50 سے زائد اوورسیز پاکستانی بھی شامل ہیں جو پلاٹوں کی مکمل ادائیگیاں کر چکے ہیں مگر انہیں نہ تو قبضہ دیا جا رہا ہے اور نہ ہی انہیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ ان کے پلاٹ کی لوکیشن کہاں ہے اور ان کے پلاٹوں کی پیمائش کتنی ہے۔ اس فراڈ کا انکشاف ملتان سے تعلق رکھنے والے عبدالحکیم ملک نامی ایک ریٹائرڈ انجینئر جو کہ قرآن پر ریسرچ کے حوالے سے دنیا بھر میں اپنی منفرد شہرت رکھتے ہیں اور انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، نے کیا جنہوں نے آج سے 20 سال قبل پنجاب گورنمنٹ آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی رائیونڈ روڈ میں قرعہ اندازی کے ذریعے اے بلاک میں ایک کنال کا پلاٹ جس کا نمبر 280 اے تھا، خریدا اور اس کی تمام تر ادائیگی اور دیگر واجبات بذریعہ چیک اور پے آرڈرز سوسائٹی کے اکاؤنٹ میں جمع کروا کر کلیئرنس سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا۔ 2011 میں انہوں نے اے بلاک کا یہی پلاٹ اپنے بیٹے انجینئر ناصر حکیم ملک کے نام ٹرانسفر کروا دیا۔ دو سال قبل سال 2024 میں اس سوسائٹی کے الیکشن ہوئے تو ایمان ورک نامی ایک امریکن شہری صدر کا الیکشن جیت گئے مگر انہوں نے غیر قانونی طور پر اپنے قریبی عزیز اور فرنٹ مین ندیم اکرام ورک کو اس کا خود ساختہ وائس پریزیڈنٹ بنا کر صدر کے تمام تر اختیارات کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کے نچلے عملے کے ملی بھگت سے اسے سونپ دیئے۔ اس سوسائٹی کے پلاٹ نمبر 280 اے کے مالک لاہور گئے تو انہوں نے سوسائٹی میں اپنے پلاٹ کا وزٹ کیا تو انہیں موقع پر چار دیواری اور گیٹ لگا ہوا دکھائی دیا جس پر انہوں نے سوسائٹی دفتر سے رابطہ کیا تو وہاںموجود افراد نے بتایا کہ مذکورہ پلاٹ تو آپ کے نام ہے ہی نہیں اگر آپ کے پاس اوریجنل فائل ہے تو آپ لے کر آئیں جس پر انہوں نے اوریجنل فائل اور ادائیگی کی تمام تر رسیدیں ندیم اکرام ورک کو دکھائیں تو ندیم اکرام ورک نے فائل اور تمام تر رسیدوں کو جعلی قرار دے دیا اور کہا کہ ہمارے ریکارڈ میں تو اس ایک کنال کے پلاٹ کا مالک ہی کوئی اور ہے۔ منشور قرآن جیسی انٹرنیشنل فیم کی کتاب کے مصنف انجینئر عبدالحکیم ملک نے اس صورتحال کے حوالے سے تحریری طور پر کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کو مطلع کیا اور اربوں روپے کے اس فراڈ کے معاملے کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیا تو دنیا بھر سے اس کوآپریٹو سوسائٹی کے متاثرین نے ان سے رابطہ کرنا شروع کر دیا۔ ان متاثرین میں ایف آئی اے کے سینئر افسران، ایک ایڈیشنل آئی جی، ایک ڈی آئی جی اور درجنوں کی تعداد میں اعلیٰ سرکاری افسران شامل ہیں۔ اب تک کی معلومات کے مطابق ندیم اکرام ورک اور اس کے گروہ کے ہاتھوں لٹنے والوں کی تعداد 580 ہو چکی ہے اور یہ سب کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کے نچلے درجے کے عملے کی ملی بھگت سے ہوا ہے۔ حیران کن طور پر اس کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے سیکٹر اے اور بی کو گوگل پر سے ہٹا دیا گیاہے اور اس کا ریکارڈ اس وقت گوگل پر موجود ہی نہیں جبکہ سی اور ڈی سیکٹر کے پلاٹوں کا سائز کم کرکے ہر 10 پلاٹوں میں سے 14 پلاٹ نکال کر ان اضافی چار پلاٹوں کو فروخت کرکے اس فراڈی گروہ نے کروڑوں روپیہ اس طریقے سے بھی ہڑپ کر لیا جبکہ سوسائٹی کے قبرستان کیلئے مختص اراضی، کھیلوں کے میدان اور دیگر پبلک ضروریات کے تمام پلاٹوں کو بھی فروخت کر دیا گیا۔ کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کے ایک ذمہ دار ذرائع کے مطابق یہ تمام جعل سازی اس ڈیپارٹمنٹ ہی کے نچلے عملے کی ملی بھگت سے ہوئی ہے اور اس جعل سازی کا حجم کروڑوں میں نہیں بلکہ اربوں روپے میں پہنچ چکا ہے۔تمام تر معلومات رکھنے کے باوجود ابھی تک نیب نے کسی قسم کی کوئی کارروائی شروع نہیں کی جبکہ چند متاثرین نے جب نیب سے رابطہ کیا تو نیب لاہور کے ذمہ دار ذرائع نے یہ موقف اختیار کیا کہ جب تک کم سے کم 100 درخواستیں نیب کو وصول نہیں ہوتی وہ کارروائی کا آغاز نہیں کر سکتے۔ متاثرین نے رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز کو اور سیکرٹری کو آپریٹو سوسائٹیز کو باقاعدہ درخواست دے دی ہے مگر اس درخواست پر کیا کارروائی ہوئی اس کی ابھی تک معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔ دوسری طرف سوسائٹی کے جعلی صدر ندیم اکرام ورک نے ہائی کورٹ سے حکم امتناعی لینے کے لیے رجوع کیا مگر بعد ازاں خارج ہونے کے ڈر سے اپنی درخواست واپس لے لی۔ بتایا گیا ہے کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ندیم اکرام ورک اپنے ٹاؤٹوں اور بعض دلالوں کے ذریعے متاثرین سے رابطہ کرکے انہیں آفر کر رہا ہے کہ ڈیڑھ کروڑ روپے سے دو کروڑ روپے والے پلاٹ کے عوض وہ 40 سے 50 لاکھ روپے لے لیں اور فائل ان کے حوالے کر دیں کیونکہ اس صورتحال میں انہیں اتنا بھی مل جائے تو غنیمت سمجھیں۔







