ملتان (سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی حکومت پاکستان (اوگرا) کی طرف سے ملک بھر میں ضرورت سے وافر ایل پی جی کا سٹاک موجود ہونے کے باوجود مقرر کردہ سرکاری ریٹ 241 روپے 43 پیسے فی کلو کی بجائے 500 سے 600 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں رکشے کھڑے ہو چکے ہیں۔ ویگنیں بند ہیں اور کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں۔ روزنامہ قوم کی طرف سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق اس گھنائونے کھیل میں مختلف اضلاع کی انتظامیہ براہ راست ملوث ہے اور اس مدمیں بھاری رشوت لے کر ایل پی جی مافیا کی مکمل سپورٹ کر رہی ہے جبکہ اوگرا کے پاس نشان دہی کرنے کے اختیارات کے علاوہ کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں حتیٰ کہ کسی پلانٹ کو سیل کرنے اور ملاوٹ کے خلاف کارروائی کرانے کے لیے بھی اوگرا کو مختلف اضلاع کی انتظامیہ کا محتاج ہونا پڑتا ہے جبکہ قیمتوں کا تعین تواو گرا کرتی ہے مگر ان پر عمل درآمد کا مکمل کنٹرول متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ اور حکومت پنجاب کے متعلقہ اداروں کے پاس ہے جو مبینہ طور پر ایل پی جی مافیا کے سہولت کار اور پشت پناہ بنے ہوئے ہیں۔ سب سے ابتر صورتحال ڈیرہ غازی خان ڈویژن کی ہے جس کے زیر انتظام اضلاع لیہ، کوٹ ادو، مظفرگڑھ، راجن پور اور ڈیرہ غازی خان میں ایل پی جی 500 سے 550 تک فروخت ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں ڈیرہ غازی خان کے ایک انتظامی افسر نے یہ موقف اختیار کیا کہ ہم نے ایل پی جی ڈیلروں سے یہ کہہ رکھا ہے کہ وہ 380 سے 400 روپے تک فی کلو ایل پی جی فروخت کریں اور اس سے زیادہ قیمت پر فروخت نہ کریں کیونکہ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو وہ گیس کی مصنوعی قلت پیدا کر دیں گے جس سے عوام کو نقصان ہو گا یہ عجیب و غریب منطق ایک انتظامی آفیسر کی طرف سے اوگرا کی چھاپہ مار پارٹی کے ذمہ دار افسران کو دی گئی گویا اوگرا کے طے شدہ ایل پی جی نرخ 241 روپے میں از خود ہی 140 روپے فی کلو کا انتظامیہ نے اضافہ کرنے کی ایل پی جی مافیا کو اجازت دے رکھی ہے جبکہ ایل پی جی مافیا اس سے بھی بڑھ کر 500 سے بھی زائد قیمت فی کلو کے حساب سے وصول کر رہا ہے اور اسے انتظامیہ کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ بعض اضلاع میں انتظامیہ نے سول ڈیفنس والوں کو بھی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے حتیٰ کہ ملتان میں سرکاری ریٹ سے زائد قیمت وصول کرنے پر اوگرا کی ٹیم نے ایک ایل پی جی پلانٹ کو سیل کیا تو آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کے خالد سنگھیڑا نامی کرتا دھرتا اپنی ٹیم کے ساتھ پلانٹ کو کھلوانے پہنچ گئے اور انہوں نے باقاعدہ اوگرا انتظامیہ کے ساتھ بحث و تکرار کی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اوگرا کے پاس جرمانہ کرنےکے علاوہ کوئی اختیارات نہیں اس لیے ملک بھر میں بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں پر کنٹرول کروانا اور سیل شدہ پلانٹس کو ڈی سیل کرنا متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کے اختیار میں ہے جو ایل پی جی مافیا کی مکمل پشت پناہی کر رہی ہے۔







