ملتان ( خصوصی رپورٹر ) ایم ایس نشتر ہسپتال ڈاکٹر راؤ امجد علی کے تبادلے کی نئی وجوہات سامنے آگئیں،سیکرٹری ہیلتھ پنجاب عظمت محمود نے بیماری کے باعث چار روزہ سٹیشن لیو کے باوجود آن لائن میٹنگ میں عدم شرکت کی سخت سزا دیتے ہوئے ایم ایس نشتر کو عہدے سے ہٹایا جوکہ بیوروکریسی کے رویے پر سوالیہ نشان ہے ۔ باوثوق ذرائع اور قوم کو موصول شدہ دستاویزات کے مطابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نشتر ہسپتال ملتان ڈاکٹر راؤ امجد علی خان نے خون کی شریانوں کے عارضے میں مبتلا ہونے کے باعث 5 جولائی کو اسلام آباد میں چیک اپ کے لئے ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ لی اور روانگی سے قبل 6 سے 9 جولائی تک سٹیشن لیو کی درخواست دی، جس میں واضح کیا گیا کہ وہ علاج اور ذاتی مصروفیت کے باعث ملتان سے باہر ہوں گے۔درخواست میں یہ بھی تحریر کیا گیا کہ ان کی غیر موجودگی میں اے ایم ایس ڈاکٹر عبدالقادر خان روزمرہ انتظامی امور انجام دیں گے۔ذرائع کے مطابق یہ درخواست صرف ہسپتال تک محدود نہیں رہی بلکہ وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی کی توثیق کے بعد باقاعدہ سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب کو ارسال کی گئی جبکہ متعلقہ اعلیٰ حکام کو بھی اس سے آگاہ کیا گیا۔معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر راؤ امجد علی خان کی 9 جولائی کو اسلام آباد میں ویسکولر سرجن کے ساتھ باقاعدہ اپائنٹمنٹ بھی طے تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ Cellulitis اور خون کی شریانوں کے عارضے کے علاج کے لیے گئے تھے کیونکہ جنوبی پنجاب میں مطلوبہ ویسکولر سرجن دستیاب نہیں تھا۔تاہم ذرائع کے مطابق اسی دوران سیکرٹری صحت پنجاب عظمت محمود کی زیر صدارت ایک آن لائن میٹنگ منعقد ہوئی جس میں عدم شرکت کو بنیاد بنا کر ڈاکٹر راؤ امجد علی خان کو ایم ایس کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور لاہور رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی جبکہ ڈاکٹر عبدالقادر خان کو نشتر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کا اضافی چارج سونپ دیا گیا۔ان احکامات نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ ایک منظور شدہ رخصت کے باوجود انتہائی سخت انتظامی کارروائی کی گئی جس نے بیوروکریسی کے رویے پر سوالات کھڑے کردیئےہیں اس فیصلے کے بعد محکمہ صحت اور طبی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ اگر ایک افسر باقاعدہ قانونی طریقہ کار کے تحت رخصت حاصل کرے، متعلقہ حکام کو آگاہ کرے، متبادل انتظام بھی چھوڑ کر جائے اور علاج کے لیے شہر سے باہر ہو، تو کیا اسے صرف ایک آن لائن میٹنگ میں شرکت نہ کرنے پر عہدے سے ہٹانا مناسب انتظامی روایت ہے؟۔ طبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسا طرزِ عمل معمول بن گیا تو سرکاری ملازمین بیماری کے باوجود علاج کرانے سے بھی ہچکچائیں گے،اگر اسٹیشن لیو باقاعدہ منظور اور متعلقہ حکام کو ارسال کی جا چکی تھی تو پھر آن لائن میٹنگ میں عدم شرکت کو خلاف ورزی کیوں سمجھا گیا؟کیا بیماری اور طبی معائنے کی مجبوری کو فیصلے میں مدنظر رکھا گیا؟کیا ڈاکٹر راؤ امجد علی خان سے ان کا مؤقف لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا؟ طبی حلقوں کا کہنا ہے کہ منظور شدہ چھٹی ، اسلام آباد میں ڈاکٹر کی اپائنٹمنٹ، اور پھر ایک آن لائن میٹنگ، جس میں شرکت نہ کرنے کی قیمت صرف ایک شوکاز نہیں، بلکہ پورا عہدہ ہی چلا گیا،کیا یہ نظم و ضبط ہے یا بیوروکریسی کا ایسا سخت رویہ جس پر نظرثانی ہونی چاہیے۔؟







