ملتان (عوامی رپورٹر) یہ بات ایسے ہی تو زبان زد عام نہیں کہ جنوبی پنجاب میں تعینات سرکاری افسران کرپشن میں سر سے پاؤں تک لتھڑے ہوئے ہیں۔ یہ تو سالانہ آڈٹ رپورٹس بھی اعتراف کرتی ہیں اور خانہ پری کے لیے افسران یاد دہانی کے خطوط کرپشن میں ملوث افسران کو جاری کرتے ہیں مگر عمل درآمد نہیں کراتے اور نہ ہی اینٹی کرپشن میں ایسے معاملات کو لے کر جاتے ہیں بلکہ کرپشن پر پردہ ڈالنے کے فن کے ماہر ہیں کیونکہ “حصہ بقدر جسہ” کے فامولے کے تحت سب کو ان کا “حق” مل جاتا ہے۔ صرف دو سال کے عرصے میں ملتان کی رجسٹری برانچ میں تعینات رہ کر ٹرانسفر ہو کر جانے والے سات سب رجسٹرارز پر آڈٹ رپورٹ میں صرف دو مالی سالوں یکم جولائی 22 تا 30 جون 24 کے دوران ایک ارب 78 کروڑ 26 لاکھ 80 ہزار 863 روپے کا رجسٹری فیس کے حوالے سے سرکاری واجبات کی وصولی میں خسارہ کیا گیا ہے اور یہ خسارہ صرف سات افسران نے کیا ہے جو 2022 سے 2024 تک ملتان کیٹ میں سب رجسٹرار کے فرائض سر انجام دینے کے بعد اب مزے سے مختلف شہروں میں اپنی نئی تعیناتیاں انجوائے کر رہے ہیں۔ یہ امر توجہ طلب ہے کہ یہ پونے دو ارب روپے کا خسارہ صرف ملتان کی تحصیل کینٹ میں ہوا ہے اور دیگر تحصیلوں کا سارا کتنا ہے اس کے حوالے سے کوئی معاملہ سامنے نہیں لایا گیا۔ ڈپٹی کمشنر ملتان کے دفتر کی طرف سے 7 جولائی 2026 کو ایک لیٹر نمبر آر بی، اے ڈی سی، 141 جاری ہوا ہے جو کہ یاد دہانی کا خط ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ اس سے قبل بھی ایسے خطوط جاری ہو کر فائلوں کے بوجھ تلے دبائے جا چکے ہیں۔ 4 جولائی کو ڈپٹی کمشنر ملتان کی طرف سے سابق سب رجسٹرارز ملتان کینٹ فاروق احمد، احمد ندیم ہاشمی، لیاقت علی گیلانی، حبیب الرحمٰن، عمران ارشد، آفتاب احمد ڈوگر اور عابد شبیر لغاری سابق سب رجسٹرارز ملتان کینٹ نام یاد دہانی کے ایک مشترکہ خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے قبل بھی اسی قسم کے دو خطوط 5 نومبر 2025 اور 31 دسمبر 2025 کو انہی سب رجسٹرارز کے نام جاری ہو چکے ہیں جن کا کوئی جواب ان 7 سب رجسٹرارز نے دینا ہی مناسب نہیں سمجھا ہالانکہ یہ معاملہ دو چار لاکھ روپے کے نہیں بلکہ ایک ارب 78 کروڑ 26 لاکھ 80 ہزار 863 روپے کی سرکاری خزانے میں کمی سے متعلق ہے جو کہ ان سب رجسٹرارز کی ملی بھگت سے رشوت کے عوض رجسٹریوں کی قیمت میں کمی کرکے کی گئی ہے۔ اس خط میں بھی ان تمام سب رجسٹرارز کو ہدایت کی گئی ہے انہوں نے سب رجسٹرار ملتان کینٹ کے طور پر پونے 2 ارب روپے سے زائد کا سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا ہے، اس کے متعلق جواب دیں اور ریکارڈ جمع کروائیں۔
اس خط کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے۔
دفتر ڈپٹی کمشنر، ملتان
نمبر: 141/RB/ADC
مورخہ: 04-07-2026
بنام:جناب فاروق احمد
جناب احمد ندیم ہاشمی
جناب لیاقت علی گیلانی
جناب حبیب الرحمٰن
جناب عمران ارشد
جناب آفتاب احمد ڈوگر
جناب عابد شبیر لغاری
سابق سب رجسٹرار (کینٹ)، ملتان
موضوع: سرکاری واجبات کی وصولی
مندرجہ بالا موضوع کے حوالے سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل آڈٹ (صوبائی وصولیاں)، پنجاب، لاہور کے آڈٹ افسر کی جانب سے کیے گئے آڈٹ کے دوران، یکم جولائی 2022 سے 30 جون 2024 کی مدت کے لیے یہ آڈٹ اعتراض اٹھایا گیا کہ اسٹامپ ڈیوٹی اور دیگر سرکاری محصولات کی کم وصولی کے باعث 1,78,26,80,863 روپے (ایک ارب اٹھہتر کروڑ چھبیس لاکھ اسی ہزار آٹھ سو تریسٹھ روپے) کی رقم سرکاری خزانے میں کم جمع ہوئی۔
02۔اس سلسلے میں اس دفتر نے اپنے خطوط نمبر 123/RB/ADCR مورخہ 05-10-2025 اور نمبر 2854/PA/ADCR مورخہ 31-12-2025 کے ذریعے آپ کو ہدایت کی تھی کہ آپ اپنے اپنے دورِ تعیناتی کے دوران بطور سب رجسٹرار (کینٹ)، ملتان رجسٹر ہونے والی دستاویزات سے متعلق رجسٹریشن ریکارڈ پیش/جمع کروائیں۔ تاہم اس سلسلے میں مطلوبہ ریکارڈ اور جواب تاحال موصول نہیں ہوا۔
03۔لہٰذا آپ کو ایک مرتبہ پھر یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ مذکورہ بالا آڈٹ مدت سے متعلق مکمل ریکارڈ فوری طور پر اس دفتر میں پیش/جمع کروائیں۔
04۔مزید برآں آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ مذکورہ بقایا سرکاری واجبات کی جلد از جلد وصولی کو یقینی بنائیں اور بعد ازاں اس دفتر کو پیش رفت سے متعلق رپورٹ فراہم کریں۔
(دستخط)
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو)ملتان
نقل برائے اطلاع:
چیف انسپکٹر آف اسٹامپس، بورڈ آف ریونیو، پنجاب، لاہور۔
پرسنل سیکریٹری برائے ممبر (ٹیکسز)، بورڈ آف ریونیو، پنجاب، لاہور۔
پرسنل اسسٹنٹ برائے کمشنر، ملتان ڈویژن، ملتان۔
پرسنل اسسٹنٹ برائے ڈپٹی کمشنر، ملتان۔
سب رجسٹرار سٹی، ملتان،
حوالہ نمبر 27/SR/City
مورخہ 27-06-2026 کے حوالے سے۔
جواب طلب







