اسلام آباد: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید کے دوران انہیں طویل عرصے تک تنہائی میں رکھا گیا، جہاں انہوں نے ایک قیدی کی مشکلات کو قریب سے محسوس کیا، جس کے بعد پنجاب کی جیلوں میں اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔
جیل ریفارمز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ وہ اس موقع پر سیاسی گفتگو نہیں کرنا چاہتیں، تاہم جیل میں گزارا گیا وقت ان کی زندگی کا ایک مشکل تجربہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ قید تنہائی کے ذہنی اثرات کو وہ بخوبی سمجھتی ہیں کیونکہ وہ خود اس مرحلے سے گزر چکی ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ دورانِ قید ان کے والد بھی جیل میں تھے، جبکہ والدہ شدید علیل ہونے کے باوجود انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ شوگر کم ہونے کے باوجود بروقت طبی امداد نہ مل سکی اور اس وقت انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مریم نواز کے مطابق جیل میں مناسب پرائیویسی موجود نہیں تھی، واش روم اور رہائشی حصہ ایک ہی کمرے میں تھا، جس کی وجہ سے عبادت سمیت روزمرہ امور میں بھی دشواری پیش آتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہی تجربات کی بنیاد پر پنجاب کی جیلوں میں جدید اصلاحات، ویڈیو لنک کی سہولت، ایمرجنسی بٹن اور دیگر قیدی دوست اقدامات متعارف کرائے گئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے سیل کے قریب کم عمر بچوں کا سیل تھا، جہاں سے بچوں کی چیخ و پکار سنائی دیتی تھی، جس نے ان پر گہرا اثر چھوڑا اور جیل اصلاحات کی ضرورت کا مزید احساس دلایا۔







