استعمال شدہ انجیکشن سے ایچ آئی وی پھیلنے کا الزام، 9 بچے جاں بحق

کراچی: سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے صنعتی ملازمین کے بچوں میں مبینہ طور پر ایچ آئی وی وائرس پھیلنے کے معاملے پر حکومت سندھ سے دو ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 20 جولائی تک ملتوی کر دی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل طارق منصور ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت سندھ کے زیر انتظام کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں مبینہ طور پر استعمال شدہ انجیکشن دوبارہ لگائے جانے کے باعث بچوں میں ایچ آئی وی وائرس پھیلا۔ ان کے مطابق اس واقعے میں اب تک 9 بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سیکڑوں دیگر متاثر ہوئے ہیں۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بچوں کی ہلاکتوں کو آٹھ ماہ گزر چکے ہیں، لیکن تاحال کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ انکوائری تو کرائی گئی، تاہم اس کی رپورٹ نہ عدالت میں پیش کی گئی اور نہ ہی درخواست گزار کو فراہم کی گئی۔
درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ یونیسف سمیت بین الاقوامی اداروں نے بھی اس صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق ان اسپتالوں سے تقریباً 10 لاکھ مزدور اور ان کے 80 لاکھ اہل خانہ علاج کی سہولت حاصل کرتے ہیں، مگر متاثرہ بچوں کو مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں اور جاں بحق بچوں کے مقدمات بھی درج نہیں کیے گئے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون کے مطابق اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے کا اختیار سیکرٹری صحت کے پاس ہے اور عدالت سے فوری مداخلت کی درخواست کی تاکہ مزید بچوں کی زندگیاں محفوظ بنائی جا سکیں۔
سماعت کے دوران جسٹس عدنان کریم نے ریمارکس دیے کہ عدالت قانون اور ضابطے کے مطابق کارروائی کرے گی، جبکہ جسٹس عدنان اقبال نے کہا کہ تمام حقائق سامنے آنے کے بعد ہی مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔
عدالت نے حکومت سندھ کو دو ہفتوں میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے اور کیس کی مزید سماعت 20 جولائی تک ملتوی کر دی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں