اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی گزشتہ مالی سال کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ادارہ رواں مالی سال میں بھی محصولات کا مقررہ ہدف حاصل کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایف بی آر میں کرپشن کے لیے کوئی گنجائش نہیں اور اصلاحات کا عمل مزید تیز کیا جائے گا۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق شہباز شریف سے ایف بی آر کے سینئر افسران نے ملاقات کی، جس میں گزشتہ مالی سال کے دوران مقررہ ریونیو ہدف سے زیادہ ٹیکس وصولیوں پر ادارے کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران تقریباً 600 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی سے کاروباری سرگرمیوں اور برآمدات کو فروغ ملا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایف بی آر کی ٹیم رواں مالی سال میں 15 کھرب روپے سے زائد محصولات کا ہدف بھی حاصل کرے گی۔
انہوں نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور اعوان، چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال، معاشی ٹیم اور ایف بی آر کے افسران کی خدمات کو بھی سراہا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران ایف بی آر میں اصلاحات، ڈیجیٹائزیشن اور مؤثر ٹیم ورک کی بدولت ٹیکس وصولیوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ایف بی آر کو شفاف، جدید اور مؤثر ادارہ بنانا ہے، اسی لیے وہ خود ہر ماہ دو مرتبہ ادارے کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ ٹیکس وصولیوں کے ساتھ ساتھ ٹیکس دہندگان، صنعتکاروں اور کاروباری برادری کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا بھی ایف بی آر کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق نیا آپریٹنگ ماڈل ڈیجیٹل، فیس لیس اور کم سے کم انسانی مداخلت پر مبنی ہوگا۔
انہوں نے پاکستان کسٹمز سروس اور ان لینڈ ریونیو سروس کے افسران کی ترقی اور سروس اسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی کہ کراچی لارج ٹیکس پیئر یونٹ نے جون 2026 میں 528 ارب روپے جبکہ لاہور لارج ٹیکس پیئر یونٹ نے 261 ارب روپے کا ریونیو جمع کیا۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایئرپورٹس پر کسٹمز ڈیوٹی کی وصولیوں میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔







