وزیراعظم شہباز شریف کل ایران روانہ ہوں گے، تعزیتی تقریب میں شرکت کے بعد ترکی جائیں گے

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف 3 سے 5 جولائی تک ایران اور ترکی کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔ دورۂ ایران کے دوران وزیراعظم سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تعزیتی تقریب میں شرکت کریں گے اور پاکستان کی جانب سے ایرانی قیادت اور عوام سے اظہارِ تعزیت و یکجہتی کریں گے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ ایران کے دورے کے بعد وزیراعظم ترک صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر استنبول جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ دوحہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان نے ایک بار پھر سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت کی تدفین کے بعد مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہوگا۔
ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر ہونے والے بین الاقوامی سیمینار کے شرکا نے معاہدے میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی یا خاتمے کو مسترد کر دیا، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی واضح کیا کہ چھ دہائیوں پرانے معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ دہشت گردی نہیں بلکہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی بھارتی سوچ ہے، جبکہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور سفارتی آپشنز محفوظ رکھتا ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان کی کوششوں سے 22 ایرانی ملاح اپنے وطن واپس پہنچ چکے ہیں، جس کے بعد واپس جانے والے ایرانی شہریوں کی مجموعی تعداد 70 ہو گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے اور حکومت شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ 29 جون کو دہشت گردی میں ملوث ایک افغان شہری کی گرفتاری کے معاملے پر افغان ناظم الامور کو ڈیمارش بھی دیا گیا۔
طاہر اندرابی نے مزید بتایا کہ پاکستان کو انٹرنیشنل اولیو کونسل کی رکنیت حاصل ہو گئی ہے اور حکومت “اولیو ڈپلومیسی” کو فروغ دینے کے لیے بھی اقدامات کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی جیلوں میں قید اپنے 750 شہریوں کی فہرست بھارت کے حوالے کر دی ہے اور ان کی رہائی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ صومالیہ میں یرغمال پاکستانی شہریوں کی محفوظ رہائی کے لیے بھی متعلقہ حکام اور بین الاقوامی اداروں سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں