یو ایچ ایس: ایم ڈی کیٹ، اکیڈمی مافیا کے مخصوص کورسز، غریب طلبہ مقابلے کی دوڑ سے باہر

ملتان (سہیل چوہدری سے) پنجاب میں خود مختار اداروں کی پالیسی کے نتیجے میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیرِ اہتمام ایم ڈی کیٹ امتحان کے حوالے سے سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں جن میں پرائیویٹ اکیڈمیوں کا طلبہ کو لوٹنا اور امتحانی نظام کو متاثر کرنا شامل ہے۔صوبائی حکومت کی جانب سے اداروں کو خود مختاری دینے کی پالیسی پر تنقید ہوتی رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے اداروں میں احتساب کا نظام کمزور ہوا ہے اور وہ عوامی مفاد کے بجائے اپنی مرضی سے کام کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے یکساں نصاب ختم کر کے پرائیویٹ اکیڈمیوں کو اپنے کورسز بنانے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ یہ کتابیں صرف انہی طلبہ کو فروخت کی جاتی ہیں جنہوںنے اکیڈمی میں داخلہ فیس جمع کروائی ہوتی ہے۔ یہ پالیسی غریب طلبہ کو دوہرا نقصان پہنچا رہی ہے۔ پہلے وہ اکیڈمی کی فیس ادا نہیں کر سکتے اور پھر وہ کتابیں نہ ہونے کی وجہ سے گھر پر تیاری بھی نہیں کر سکتے جس سے امتحان میں ان کے کامیاب ہونے کے امکانات تقریباً ختم ہو جاتے ہیں۔یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پر الزام ہے کہ و پرائیویٹ اکیڈمیوں پر مؤثر طریقے سے کنٹرول نہیں کر رہی جس کی ایک طویل تاریخ ہے۔پرائیویٹ اکیڈمیز مافیا کے خلاف آوازیں اٹھ چکی ہیںجن پر الزام تھا کہ وہ غریب والدین سے سالانہ 6 ارب روپے لوٹ رہی ہیں۔ اس سے قبل ثابت ہو چکا ہے کہ پرائیویٹ اکیڈمیوں کا یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے نچلے عملے سے ملاپ تھا۔ماضی میں پرائیویٹ اکیڈمی کے ٹیچر اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے عملے کی ملی بھگت سے پیپر لیک کیا گیا اور ہر طالب علم سے 50ہزارروپے لیے گئے۔اس سکینڈل میں 12 افراد گرفتار ہوئے، جن میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کا ایک جونیئر ملازم بھی شامل تھا۔ملزمان طویل عرصے سے یہ ریکٹ چلا رہے تھے اور پورے صوبے میں اس کا نیٹ ورک پھیلا ہوا تھا۔خود مختار اداروں کی پالیسی کے تحت یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی ناقص نگرانی اور پرائیویٹ اکیڈمیوں کی اجارہ داری نے مل کر ایک ایسا نظام تخلیق کیا ہے جو امیر طلبہ کو تو مواقع فراہم کرتا ہےمگر غریب اور محنت کش طلبہ کو امتحان میں کامیابی کے موقع سے محروم کر کے ان کا مستقبل تباہ کر رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں