بھکر:12 سال سے قید مبینہ آدم خور کی طبیعت بگڑ گئی، ہسپتال منتقل

بھکر( نمائندہ قوم)گزشتہ 12 سال سے جیل میں قید مبینہ آدم خور ملزم عارف کی طبیعت خراب ہونے پر اسے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بھکر منتقل کیا گیاجہاں چکر آنے اور شدید سر درد کی شکایت پر قانونی کارروائی کے بعد اسے داخل کیا گیا۔ علاج کے دوران ڈی پی او بھکر محمد نوید قریشی نے سخت سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا۔ میڈیکل بورڈ نے عارف کا تفصیلی معائنہ کیا اور مختلف ٹیسٹوں کے لیے نمونے لیبارٹری بھجوا دیے۔ ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر ندیم رضا سیال کے مطابق عارف کو تقریباً دو گھنٹے بعد ڈسچارج کر دیا گیاجبکہ مزید علاج کا فیصلہ ٹیسٹ رپورٹس کی روشنی میں کیا جائے گا۔ عارف اور اس کے بھائی فرمان کو 12 سال قبل تحصیل دریاخان کے علاقے کہاور کلاں سے آدم خوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے کینسر سے وفات پانے والی ایک بچی اور دو سالہ بچے کی قبروں سے لاشیں نکال کر ان کا گوشت کھایا تھا۔ فرمان جیل میں انتقال کر چکا ہے جبکہ عارف اس وقت بھی ڈسٹرکٹ جیل بھکر میں قید ہے۔ 2011 میں دونوں بھائی پہلی بار انسانی لاشوں کا گوشت کھانے کے الزام میں گرفتار ہوئے تھے، اس وقت پولیس نے ان کے گھر سے سالن سے بھری ہانڈی اور دیگر شواہد بھی برآمد کیے تھے۔ رہائی کے بعد 2014 میں انہیں ایک بچے کی قبر کھود کر لاش نکالنے اور اسے کھانے کے الزام میں دوبارہ گرفتار کیا گیا جس پر انہیں 12 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس واقعے کے بعد آدم خوری کو باقاعدہ جرم قرار دینے کے لیے ایک بل بھی پیش کیا گیا مگر وہ آج تک قائمہ کمیٹی میں زیر التوا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں