خیرپورسادات(نامہ نگار) ہیڈ پنجند سپر بند تنازعہ شدت اختیار کر گیا۔ بند کی تعمیر کے دوران آنے والے رہائشی گھر اور قبرستان بھی مسمار کر دیئےگئے۔متاثرین حقوق نہ ملنے پر پانچویں روز پر دھرنا جاری رکھا۔اریگیشن عملہ کی طرف سے کنڈی بند ھ پر کام کرنے والے ٹریکٹر بند کر دیے اور عملہ کو بھگا دیا۔ پولیس تھانہ اور ڈی ایس علی پور پہنچ گیا مظاہرین کے مسائل سنے یقین دہانی کے باوجود دھرنا ختم نہ ہوسکا۔تفصیلات کے مطابق ہیڈ پنجند عظمت پور نا مکمل بند اور کنڈی بندھ تنازعہ پر تین سے زائد بستیوں کے درجنوں مظاہرین کا احتجاج اور دھرنا پانچویں روزمیں داخل ہو گیا۔ اریگیشن حکام اور پولیس افسران کو آگاہ کیے بغیر ٹھیکیدار کےہمراہ زبردستی سیلاب سے قبل بند بنانے پر بضد جبکہ اہل علاقہ بغیر معاوضہ اپنی زمینوں سے مٹی زبردستی اٹھانے اور گھروں کو گرا کر دریائی کنڈی بندبنا نے کے خلاف پر امن احتجاج جاری رکھے ہوئےہیں اور روزانہ اریگیشن عملہ مطالبات پر بات چیت کے بغیر زبردستی کام پولیس ڈنڈے کے باعث کرانا چاہتا ہے جبکہ پر امن مظاہرین ٹریکٹر بند کرا کے کام رکوا دیتے ھیں آنکھ مچولی اور پولس کی جانب سے ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ جاری ھے اج صبح سویرے مظاہرین نے اریگیشن کو غیر قانی بندھ بنا نے سے روکا تو اطلاع پر چندر بھان بندھ کے مقام پر مظاہرین سے مذاکرات کے لئے ایس ڈی پی او علی پور جام اللہ یار سیفی پہنچ گئے پولیس تھانہ صدر کےہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور پریشان افراد کے مسائل سنے۔ اس موقع پر پولیس نے مظاہرین سے کہا کہ وہ زیر تعمیر کنڈی بندھ کے کام کو پایہ تکمیل کو پہنچنے دیں جبکہ انہوں نے عظمت پور نامکمل بند کو بھی مکمل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ مظاہرین کے نمائندوں اور علاقائی کاشتکاروں کی جانب سے موقف دیا گیا ہے کہ ہم کنڈی بندھ دیئے جانے کے مخالف نہیں ہیں لیکن اس سے ہزاروں نفوسِ پر مشتمل آبادی نجی اور سرکاری انفراسٹرکچر دریائی بیٹ میں شامل ہونے کا احتمال ہے۔ مظاہرین نے ڈی ایس پی علی پور اللہ یار کو تجویز پیش کی ہے کہ کنڈی بند اور عظمت پور نامکمل بند کو مکمل کرنے کے لئے مشینری بیک وقت کام کرے۔ آدھی مشینری کنڈی بندھ پر اور آدھی مشینری عظمت پور نامکمل بندھ پر کام کرے۔ ہم راضی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق جس کے بعد جام اللہ یار سیفی ہائر اتھارٹی کو صورت حال سے آگاہ کرنے کے لئے احتجاج ختم کرائے بغیر واپس لوٹ آئے ۔مظاہرین نے میڈیا نمائندگان کو ویڈیو بیان میں بتایا ھماری ذندگی کی جمع پونجی پر اریگیشن حکام اور ٹھیکیدار زبردستی بغیر معاوضہ کے قبضہ کر کے بند بنانا چاہتے ھیں جو ہمیں منظور نہیں۔ گذشتہ سال سیلاب سے ابھی بحال نہیں ھوئے اب انتظامیہ زبردستی ہماری املاک پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔







