ڈیرہ غازی خان(ڈ سٹرکٹ رپورٹر،خبرنگار )ضلعی انتظامیہ ڈیرہ غازی خان، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر حکمت عملی اور مسلسل مذاکرات کے نتیجے میں کوہ سلیمان کے لادی گینگ کے چاکرانی گروپ کے آٹھ اراکین نے رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈال کر خود کو قانون کے حوالے کر دیا۔ یہ پیش رفت علاقے میں پائیدار امن کے قیام کی جانب اہم اور تاریخی سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔تھانہ کوٹ مبارک میں منعقدہ تقریب کے دوران گینگ کے اراکین نے اپنے خاندان کے افراد کی موجودگی میں ہتھیار سرکاری تحویل میں دیئے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر صادق بلوچ، پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان امیر تیمور، پنجاب پولیس، بارڈر ملٹری پولیس کے افسران اور قبائلی عمائدین کی نمائندگی کرتے ہوئے سردار خرم خان کھوسہ بھی موجود تھے۔میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد اور ڈی پی او صادق بلوچ نے کہا کہ کوہ سلیمان رینج میں سرگرم گینگ کے خلاف مؤثر آپریشنز کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا عمل بھی جاری تھا جس کے نتیجے میں آج پہلی بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ خوش آئند ہے اور حکومت ہتھیار ڈالنے والے افراد کو قانونی تحفظ اور ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے بتایا کہ کوہ سلیمان میں موجود دیگر گروپوں کے ساتھ بھی مذاکرات جاری ہیں اور امید ہے کہ وہ بھی جلد قومی دھارے میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں امن کے قیام کے بعد ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور حکومتی فنڈز تعلیم، صحت، بنیادی سہولیات اور انفراسٹرکچر کی بہتری پر خرچ کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور صنعتی اداروں کے تعاون سے نوجوانوں کو باعزت روزگار کی فراہمی کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ڈی پی او صادق بلوچ نے کہا کہ حکومت کی پالیسی کے تحت راجن پور اور رحیم یار خان کے کچہ علاقوں میں 400 سے زائد جرائم پیشہ افراد پہلے ہی قانون کے سامنے سرنڈر کر چکے ہیں اب ڈیرہ غازی خان کے کوہ سلیمان میں بھی یہ تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔قانون کے حوالے کرنے والے چاکرانی گینگ کے محمد ابراہیم عرف ابی ولد قیصر، عیسیٰ ولد میرن، عثمان ولد میرن، جلال ولد الیاس،قیصر ولد اللہ بخش،عیسیٰ ولد اللہ تعالیٰ اور سلیم ولد قیصر شامل تھے۔







