گوجرانوالہ: تنخواہ نہ ملنے اور ٹھیکیدار کے ظلم پر ستھرا پنجاب ورکر نے خودکشی کرلی

گوجرانوالہ (بیورورپورٹ) گوجرانوالہ میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے فلیگ شپ پراجیکٹ ستھرا پنجاب کے ایک غریب ورکر ذیشان نے ٹھیکیدار کی بے حسی، تنخواہ کی عدم ادائیگی اور تذلیل سے دلبرداشتہ ہو کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ اطلاعات کے مطابق ستھرا پنجاب مہم کے تحت کام کرنے والے ٹھیکیداروں نے ذیشان کے ساتھ 20 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ طے کی حالانکہ آرڈر میں 40 ہزار تحریر تھی، ذیشان نے دل لگا کر کام کیا، لیکن اسے طے شدہ رقم کے تحت تنخواہ ادا نہیں کی گئی بلکہ صرف 19 ہزار روپے کی ادائیگی کی گئی، اس پر چند ماہ پہلے ستھرا پنجاب کے اس ورکر ذیشان کی جانب سے ارباب اختیار کے سامنے احتجاج بھی کیا گیا تھا۔مالی حالات سے انتہائی تنگ آ کر جب ذیشان نے ٹھیکیدار سے اپنے خون پسینے کی پوری تنخواہ کا مطالبہ کیا تو ٹھیکیدار نے غریب پر رحم کھانے کے بجائے ظلم کی انتہا کر دی، ٹھیکیدار نے ناصرف اسے نوکری سے برطرف کر دیا بلکہ اسے مبینہ طور پر سرِعام دھکے دیئے، گالیاں دیں اور شدید برا بھلا کہہ کر وہاں سے بھگا دیا۔معلوم ہوا ہے کہ نوکری کے خاتمے، شدید معاشی تنگی اور سرِعام ہونے والی اس تذلیل کو ذیشان برداشت نہ کر سکا اور انتہائی دلبرداشتہ ہو کر موت کو گلے لگا لیا، اس واقعے کی خبر پھیلتے ہی گوجرانوالہ کے عوامی اور سماجی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور ستھرا پنجاب کے اس قسم کے ٹھیکیداروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔دوسری طرف صوبائی دارالحکومت لاہور میں ستھرا پنجاب مہم کے تحت کام کرنے والے ورکرز کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں شہر کے مختلف اہم اور مصروف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں