دس محرم قتل کیس، مرکزی ملزم تاحال فرار،آٹھ یتیم بچوں کی دہائی

ٹاٹےپور (نامہ نگار)10 محرم کو باپ کے سائے سے محروم ہونے والے آٹھ بچوں کی دہائی، مرکزی ملزم تاحال گرفتار نہ ہو سکا10 محرم الحرام کے روز کبیروالہ کے نواحی علاقے اولک سندھو میں قبرستان کے اندر فائرنگ کر کے قتل کیے جانے والے حق نواز کے مقدمے کا مرکزی ملزم تاحال قانون کی گرفت میں نہ آ سکا، جس پر مقتول کے اہلِ خانہ نے پولیس کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری انصاف کی اپیل کی ہے۔ مقتول کی کمسن بیٹی زہرہ بتول اور بیٹے محمد آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ ان کے والد آٹھ بچوں کے واحد سہارا اور پورے خاندان کے کفیل تھے۔ ان کی اچانک شہادت کے بعد گھر کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے، چولہا ٹھنڈا پڑ گیا ہے اور بچوں کی تعلیم سمیت روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔محمد آصف نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل کرکٹ میچ کے دوران ہونے والے تنازع پر دونوں فریقوں کے درمیان صلح ہو چکی تھی، تاہم 10 محرم الحرام کے روز تقریباً 20 مسلح افراد نے اس وقت ان کے والد پر حملہ کر دیا جب وہ قبرستان میں موجود تھے۔ حملہ آوروں نے لوگوں کی موجودگی میں اندھا دھند فائرنگ کر کے انہیں موقع پر ہی قتل کر دیا۔انہوں نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد پولیس کو 15 پر اطلاع دی گئی، جس پر کارروائی کرتے ہوئے اب تک سات ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا، تاہم مقدمے کا مرکزی ملزم اب بھی فرار ہے۔ زہرہ بتول اور محمد آصف کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ مخالفین کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے، جبکہ ان کا خاندان غریب اور نادار ہے اور بااثر افراد کا مقابلہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ انہوں نے زار و قطار روتے ہوئے کہا کہ انہیں ڈر ہے کہیں اثر و رسوخ کی وجہ سے انہیں انصاف سے محروم نہ کر دیا جائے۔ انہوں نے دہائی دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے والد کے قتل کے مقدمے میں شفاف اور بلاامتیاز انصاف فراہم کیا جائے۔ اہلِ خانہ نے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندان کو فوری مالی اور قانونی امداد فراہم کی جائے تاکہ آٹھ یتیم بچوں کی کفالت اور تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔ آخر میں زہرہ بتول اور محمد آصف نے آر پی او ملتان، ڈی پی او خانیوال اور وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی کہ مقدمے کے مرکزی ملزم کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ ان کے والد کے قتل کے کیس میں انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی ملزم کی مسلسل عدم گرفتاری کے باعث پورا خاندان شدید ذہنی اذیت اور خوف میں مبتلا ہے اور انصاف کا منتظر ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں