بہاولپور(کرائم رپورٹر) پاکستان ریلوے کی سرکاری اراضی پر مبینہ تجاوزات کے خلاف کاروائی ایک بار پھر سوالات کی زد میں آ گئی۔ سرکاری دستاویز کے مطابق ملتان ڈویژن کے تحت ریلوے لائن کے کلو میٹر 830/6 تا 830/10 (اپ اور ڈاؤن سائیڈ) پر برسوں سے قائم تجاوزات کے خلاف کارروائی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے جبکہ حالیہ آپریشن میں مزاحمت کی وجہ سے محدود رقبہ ہی واگزار کروایا جا سکا۔ انسپکٹر آف ورکس، پی آر سمہ سٹہ کی جانب سے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر پی آر لودھراں کو بھیجے گئے مراسلے میں بتایا گیا کہ مذکورہ مقام پر متعدد کچے اور پکے مکانات عرصہ دراز سے قائم ہیں اور مزید نئی تعمیرات کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔ رپورٹ میں ڈویژنل انتظامیہ سے پولیس، لیڈیز پولیس اور متعلقہ ریلوے عملے کے ساتھ مشترکہ انسداد تجاوزات آپریشن کرانے کی سفارش کی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق اسی سلسلے میں انسپکٹر آف ورکس سمہ سٹہ عابد اعوان ریلوے اسٹیشن بہاولپور تھانہ کے ایس ایچ او ملک فیاض اور پولیس نفری نے بستی اوڈاں میں کارروائی کی جہاں ریلوے اراضی پر تقریباً 125 مکانات موجود تھے۔ کارروائی کے دوران مزاحمت کی اطلاعات سامنے آئیں جسکی وجہ سے صرف پانچ مرلے اراضی کرائی جا سکی جبکہ باقی اراضی پر تجاوزات برقرار رہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ریلوے کی قیمتی زمین پر بڑے پیمانے پر قبضے موجود ہیں جس سے قومی اثاثوں کے تحفظ پر سوالات اٹھ رہے ہیں ۔بعض زرائع نے ریلوے کے چند اہلکاروں پر مبینہ غفلت اور سرپرستی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں ۔بہاولپور کے عوامی وسماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں تجاوزات کے ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور اگر کسی سرکاری اہلکار کی غفلت یا بدعنوانی ثابت ہوتی ہے اسکے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔







