بہاولپور(کرائم رپورٹر) بہاولپور کے موضع حبیب مسن میں بجلی چوری کے ایک مقدمے نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ مقدمے میں ایک ایسے شخص کا نام شامل کیا گیا ہے جسکے بارے میں مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ تقریباً31سال قبل 1995 میں وفات پا چکا ہے اگر یہ بات درست ثابت ہوتی ہے تو مقدمے کے اندراج کے طریقہ کار اور متعلقہ ریکارڈ کی جانچ پر سنگین سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق بہاولپور تھانہ مسافر خانہ میں میپکوکی جانب سے درج مقدمہ نمبر 398/26 بجرم 462ـ1 ت پ میں محمد رفیق ولد منظور احمد کا نام شامل کیا گیا ہے۔ اہل علاقہ کے مطابق مذکورہ شخص برسوں پہلے وفات پا چکا ہے۔ اس لیے اسکے خلاف مقدمہ درج ہونا ایک غیر معمولی معاملہ ہے ۔علاقہ مکینوں کے مطابق گھر میں بجلی کی ضروریات کا بڑا حصہ سولر سسٹم سے پورا کیا جا رہا ہے جسکی وجہ سے بجلی کا استعمال اور بل نسبتاً کم آتا ہے بعض شہریوں کا موقف ہے کہ اسی تناظر میں یہ کارروائی کی گئی ۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی وفات یافتہ شخص کے خلاف غلطی سے مقدمہ درج ہوا ہے تو یہ معاملہ فوری جانچ کا متقاضی ہے۔ حقائق کی تصدیق کے بعد اگر اندراج میں غفلت یا غلطی ثابت ہو تو متعلقہ قوائد کے مطابق ضروری کاروائی کی جا سکتی ہے بہاولپور کے عوامی وسماجی حلقوں اور خانقاہ شریف موضع حبیب مسن کے علاقہ مکینوں نے میپکو حکام کے اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمہ نمبر 398/26 کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائےں متعلقہ ریکارڈ کا فرانزک اور انتظامی جائزہ لیا جائے اور اگر مقدمہ بے بنیاد یا غلط اندراج پر مبنی ثابت ہو تو قانون کے مطابق زمہ دار اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔







