ویمن یونیورسٹی ملتان سنڈیکیٹ میں متنازع نامزدگی، ایچ ای سی نوٹیفکیشن قانون سے متصادم

ملتان (سٹاف رپورٹر) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے تحت جاری ہونے والے ایک حالیہ نوٹیفکیشن نے ادارے کی قانونی و انتظامی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں، مبینہ طور پر قانون اور یونیورسٹی ایکٹ کی واضح شقوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک متنازعہ تقرری عمل میں لائی گئی ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شازیہ انجم کو چیئرمین ایچ ای سی کے نمائندے کے طور پر دی ویمن یونیورسٹی ملتان کی سنڈیکیٹ کا رکن نامزد کروا دیا گیا اور ان کی مدت دو سال مقرر کی گئی۔ تاہم اس تقرری پر قانونی ماہرین اور تعلیمی حلقوں میں شدید تحفظات سامنے آ رہے ہیں کیونکہ دی ویمن یونیورسٹی ملتان ایکٹ 2010 کے سیکشن 19(1)(vi) کے مطابق سنڈیکیٹ میں چیئرمین ایچ ای سی یا ان کا نامزد نمائندہ وہی شخص ہو سکتا ہے جو کمیشن کا فل ٹائم ممبر ہو اور اس سے کم رینک کا کوئی فرد اس عہدے کے لیے اہل نہیں سمجھا جاتا۔ مزید برآں ایکٹ کے مطابق اس نوعیت کی نامزدگی کی مدت تین سال مقرر ہےجبکہ جاری کردہ نوٹیفکیشن میں مدت کو دو سال تک محدود کیا گیا ہےجو قانونی ماہرین کے مطابق ایکٹ کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ روزنامہ قوم کے قانونی ماہرین نے ایک اور اہم قانونی نکتے کی بھی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق ویمن یونیورسٹی ملتان ایکٹ میں استعمال ہونے والی عبارت Chairman of the Higher Education Commission or his nominee کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ سٹاف کی جانب سے چیئرمین ایچ ای سی کو اس بات پر قائل کیا گیا کہ وہ اپنے قانونی اختیار کو مستقل بنیادوں پر کسی دوسرے فرد کو منتقل کر دیں یا آئندہ تمام اجلاسوں کے لیے ایک مستقل نمائندہ مقرر کر دیں۔ قانون کی روح کے مطابق نمائندہ صرف اسی صورت نامزد کیا جا سکتا ہے جب چیئرمین کسی مخصوص اجلاس میں سرکاری مصروفیات یا ناگزیر وجوہات کی بنا پر شرکت نہ کر سکیں۔ اگر چیئرمین دستیاب ہوں تو اجلاس میں شرکت ان کی اپنی قانونی ذمہ داری ہے۔ چنانچہ سٹاف کی جانب سے چیئرمین ایچ ای سی کو مس گائیڈ کرتے ہوئے ان کو ان کے قانونی فرائض سے بری الزمہ کروانا کسی صورت مناسب نہیں۔ اس لیے کسی بھی نامزدگی کا اطلاق صرف متعلقہ اجلاس تک محدود ہونا چاہیےنہ کہ دو سال یا کسی مستقل مدت کے لیے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر ایسی مستقل نامزدگی کو درست تسلیم کر لیا جائے تو پھر سیکرٹری ہائر ایجوکیشن، سیکرٹری خزانہ، سیکر ٹری قانون اور دیگر قانونی اراکین بھی اپنے مستقل نمائندے مقرر کرنے کا جواز پیدا کر سکتے ہیںجس سے نہ صرف یونیورسٹی ایکٹ کا بنیادی مقصد متاثر ہوگا بلکہ قانون ساز ادارے کی منشا بھی مجروح ہوگی۔ اسی بنا پر ماہرین اس نوٹیفکیشن کو قانون کی روح، سکیم اور تقاضوں کے منافی قرار دے رہے ہیں۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف انتظامی غلطی نہیں بلکہ قانونی طریقہ کار سے انحراف اور ادارہ جاتی گورننس پر سوالیہ نشان ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو ویمن یونیورسٹی ملتان کی سنڈیکیٹ میں اس نمائندگی کی قانونی حیثیت مکمل طور پر مشکوک اور ناقابلِ قبول ہو سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اندرونی سٹاف کے ذریعے چیئرمین کو مبینہ طور پر غلط معلومات فراہم کی گئیںجس کے نتیجے میں یہ نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ قانونی ماہرین اور تعلیمی حلقوں نے حکومت اور ایچ ای سی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری انکوائری کی جائے، نوٹیفکیشن کو معطل یا واپس لیا جائے اور ذمہ داران کا تعین کر کے شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں قانون کی بالادستی، تقرریوں کے شفاف نظام اور قانونی تقاضوں کی پابندی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئےہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں