ہیٹ ویو میں طویل سفر کی سزا، ٹریننگ میں عدم شرکت اساتذہ کو مہنگی پڑ گئی، شوکاز جاری

ملتان (سٹاف رپورٹر) پنجاب کے سرکاری سکولوں کے اساتذہ خصوصاً خواتین ٹیچرز شدید گرمی، حبس اور سفری مشکلات کے باوجود محکمہ تعلیم کی جانب سے عائد کردہ غیر انسانی فیصلوں کے باعث شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار ہو گئے ہیں۔ محکمہ تعلیم نے اپنی کارکردگی بہتر ظاہر کرنے اور اعداد و شمار مکمل کرنے کی خاطر اساتذہ کو ان کے گھروں سے 50 سے 100 کلومیٹر دور ٹریننگ سینٹرز میں حاضر ہونے کا پابند بنا دیا، جبکہ شدید گرمی کی لہر اور ہیٹ ویو کے خطرات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ملتان سے تعلق رکھنے والے متعدد مرد و خواتین اساتذہ جو مظفرگڑھ کے سکولوں میں فرائض انجام دے رہے ہیں، انہیں روزانہ طویل سفر کرکے مظفرگڑھ کے مختلف مقامات پر منعقدہ BERLITZ English Language Proficiency Training میں شرکت کا حکم دیا گیا۔ شدید گرمی، ناقص ٹرانسپورٹ، طویل فاصلے اور خواتین اساتذہ کے گھریلو و خاندانی مسائل کے باوجود محکمہ تعلیم نے کسی قسم کی رعایت یا متبادل انتظامات فراہم نہیں کیے۔ متاثرہ اساتذہ کا کہنا ہے کہ گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران عموماً ایسی سرگرمیوں سے گریز کیا جاتا ہے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعہ یا ہیٹ سٹروک جیسے خطرات سے بچا جا سکے، مگر اس مرتبہ محکمہ تعلیم نے زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے اساتذہ کو شدید گرمی میں دربدر ہونے پر مجبور کر دیا۔ کئی خواتین اساتذہ نے سکیورٹی، سفری اخراجات اور صحت کے مسائل کے باعث ٹریننگ میں شرکت نہ کی تو انہیں انعام دینے کے بجائے شوکاز نوٹس تھما دیے گئے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی مظفرگڑھ کی جانب سے جاری کیے گئے شوکاز نوٹس میں اساتذہ پر “نااہلی” اور “بدانتظامی” کے الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ (PEEDA) 2006 کے تحت کارروائی کی دھمکی دی گئی ہے۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹریننگ میں عدم شرکت کو اعلیٰ حکام کے احکامات کی نافرمانی تصور کیا جائے گا اور اس بنیاد پر سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ تعلیمی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا شدید گرمی میں سینکڑوں اساتذہ کو روزانہ کئی کئی گھنٹے سفر پر مجبور کرنا، خصوصاً خواتین اساتذہ کو، انتظامی دانشمندی ہے یا سرکاری اختیارات کا بے رحمانہ استعمال؟ ناقدین کے مطابق اگر ٹریننگ اتنی ہی ضروری تھی تو اسے آن لائن منعقد کیا جا سکتا تھا یا اساتذہ کے قریبی مراکز میں انتظامات کیے جا سکتے تھے۔ تعلیم دشمن پالیسیوں کے باعث پہلے ہی سرکاری سکولوں کے اساتذہ اضافی ڈیوٹیوں، سرویز، مہمات اور غیر تدریسی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، جبکہ اب گرمی کی شدت میں طویل فاصلے طے کرنے کی سزا بھی ان کے حصے میں آ گئی ہے۔ اساتذہ تنظیموں نے حکومت پنجاب اور سیکرٹری سکول ایجوکیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ اس غیر انسانی طرز عمل کا فوری نوٹس لیا جائے، شوکاز نوٹس واپس لیے جائیں اور شدید موسمی حالات میں اساتذہ کو ہراساں کرنے کے بجائے ان کے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر محکمہ تعلیم کا مقصد واقعی تعلیمی معیار میں بہتری ہے تو اساتذہ کو سہولیات، احترام اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہوگا، کیونکہ خوف، دھمکیوں اور شوکاز نوٹسوں کے ذریعے نہ تو معیاری تعلیم دی جا سکتی ہے اور نہ ہی ایک مثبت تعلیمی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں