بہاولپور: پرائیویٹ پٹواریوں، منشیوں کا گٹھ جوڑ، جعلی انتقالات، زمینوں پر قبضے، قوانین بے اثر

بہاولپور (کرائم رپورٹر)بہاولپور کے سٹی و صدر پٹواری حلقوں میں پرائیویٹ منشیوں کا وسیع نیٹ ورک بے نقاب سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور عدالت کے احکامات بھی بے اثر،سرکاری ریکارڈ پر پرائیویٹ منشیوں کی گرفت میں پورے مافیا کو ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر آفس میں عرصہ دراز سے تعینات کلرکوں کی مبینہ اشر آباد حاصل ،جعلی اور بوگس رجسٹریوں کے انتقالات درج کروانے اور سرکاری زمینوں پر قبضے کروانے میں متعلقہ پٹواریوں اور منشیوں کے گٹھ جوڑ کو کلرکوں کی مبینہ سہولت کاری،سائلین ذلیل و خوار پٹواری اور منشی مال و مال وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق ضلعی حکام کے خلاف ایسے الزامات سامنے آ گئے ہیں کہ جن سے ضلع کے زرعی نظام کی ساکھ ہل کر رہ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بہاولپور کے سٹی اور صدر حلقوں میں تعینات کئی پٹواری اپنے ذاتی مکانات میں دفاتر قائم کرکے وہاں مکمل طور پر پرائیویٹ منشیوں کی اجارہ داری چلا رہے ہیں اور معاملہ صرف دفاتر تک محدود نہیں رہا، بلکہ بڑے پیمانے پر سرکاری رقبوں میں جعلسازی، بوگس انتقالات اور رجسٹریوں میں جعل سازی جیسے سنگین بے ضابطگیاں بھی سرزد ہو رہی ہیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پٹواری اپنے منشیوں کو مضبوط نیٹ ورک کے ذریعے ضلعی و انتظامی محکموں تک کی رسائی دلوا چکے ہیں، اور کچھ منشی برسوں سے ایک ہی حلقے میں تعینات رہ کر زمینوں کے ریکارڈ میں تبدیلیاں، تعمیر شدہ مکان کو خالی پلاٹ ظاہر کرنے اور کورڈ ایریا گھٹانے جیسے طریقوں پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔ یہی منشی صوبائی افسران اور رجسٹرار دفاتر میں بھی اپنے اثرورسوخ کا استعمال کرتے ہوئے معاملے ( دونمبریوں) حل کروانے میں کامیاب رہتے ہیں۔بہاولپور سٹی سرکل کے پوش علاقوں میں ہر پٹواری کے ساتھ پانچ پانچ چھ منشیوں کی ایک فوج بنا رکھنے کی بھی اطلاعات ہیں جو دن بھر آنے والے سائلین سے “فی سرورق” طے شدہ نرخ وصول کرتے ہیں۔ ان منشیوں کا کہنا ہے کہ وہ انتظامی افسران کے دفاتر اور گھروں کے اخراجات برداشت کرتے ہیں، اس لیے کوئی ان کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا — اور یہی دعویٰ ان کے لیے ایک طاقت کا درجہ بن گیا ہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ جہاں پنجاب کے کئی اضلاع میں پرائیویٹ منشی رکھنے پر قانونی کارروائیاں اور مقدمات درج ہوئے، وہیں بہاولپور میں اعلیٰ عدالتی اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کے احکامات “پہنچتے پہنچتے” کمزور پڑ جاتے ہیں۔ علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر بہاولپور بھی ان بااثر حلقوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں لاچار دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث یہ نیٹ ورک کھل کر لوٹ مار میں مصروف ہے۔ماہرین اور شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے، متاثرہ ریکارڈ فوراً سیل کیا جائے اور تمام مشتبہ افراد کے خلاف شفاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس رپورٹ کے مطابق اگر فوری طور پر سخت قدم نہ اٹھایا گیا تو زرعی زمینوں کا حقیقی ملکیتی نظام ہمیشہ کے لیے متاثر ہو سکتا ہے — اور غریب کسان اپنی زمینوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔حکومت، ڈپٹی کمشنر آفس اور بورڈ آف ریونیو سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے جواب میں کہا: “تحقیقات جاری ہیں” مگر عوام کا سوال برقرار ہے: کیا تحقیقات میں اتنی جلدی قوتِ عمل آ سکے گی کہ نیٹ ورک کے اصل سر برآمد ہوں؟

شیئر کریں

:مزید خبریں