رحیم یارخان(بشیر احمد چوہدری سے)سندھ کے بعد پنجاب میں تعلیم کا بیڑا غرق،سرکاری سکولوں کے اساتذہ بھی سندھ کے اساتذہ کرام کی روش پر چل پڑے،امتحانی سینٹروں میں طلباء و طالبات سے ریاضی،سائنس،انگلش اور اسلامیات کے پیپرز کو حل کروانے اور معاونت فراہم کرنے کی مد میں پیسوں کی وصولی کئے جانے کا انکشاف،فی پرچہ 5000 سے 7000 میں حل کروایا جانے لگا،خفیہ ٹیموں نے مئی میں ضلع رحیم یارخان کے اچانک معائنہ کی تفصیلات سوشل میڈیا پر وائرل کردی،امتحانی دنوں میں سینٹر انچارج اور اساتذہ کرام سکولوں،کالجوں سے غائب،جونیئر اساتذہ نقل کروانے اور معاونت فراہم کرنے کی تصاویر بھی منظر عام پر آگئی،پنجاب میں تعلیم کا اعلیٰ معیارکے دعویدار صوبائی وزیر تعلیم کی دعوؤں کی کھلی کھل گئی۔تفصیل کے مطابق پنجاب میں تعلیم کا اعلیٰ معیار،سکول کالج اور یونیورسٹیوں میں طلباء و طالبات کی جدید سہولیات کی فراہمی کے دعویدار صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی پنجاب میں تعلیمی اسکلز کی کھلی کھل گئی،ضلع رحیم یارخان سمیت راجن پور ،ڈی جی خان،بہاولپور،بہاولنگر،لودھراں سمیت پورے جنوبی پنجاب کے تعلیمی اداروں کے سربراہان،بورڈ آف بہاولپور کے افسران ،امتحانی سینٹروں کے انچارج سندھ کے تعلیمی اداروں کی روش پر چل پڑے،ذرائع نے بتایا کہ صادق آباد،رحیم یارخان،خانپور،لیاقت پور سمیت خانبیلہ،ظاہر پیر سمیت پورے ضلع رحیم یارخان کے تقریباً100 سے زائد امتحانی سینٹروں پر بورڈآف بہاولپور کے کلرکوں نے من پسندحاضر سروس اور ریٹائرڈ اساتذہ کرام کو سینٹر انچارج بنایا اور فی امتحانی سینٹر 1 لاکھ روپے میں فروخت کیا ہے،ذرائع نے بتایا کہ ضلع بھر کے سینٹر انچارجوں نے میتھا میٹکس،انگلش،اسلامیات اور سائنس جیسے سخت پیپروں کو حل کروانے ریٹ 5ہزار سے 7 ہزار روپے مقرر رکھا تھا جو طالب علم جائز کیش،ایزی پیسہ کے ذریعہ سینٹر انچارجوں کو رقم بھجوانا اسکو نقل کرنے کیساتھ پرچہ حل کروانے کی مکمل معاونت فراہم کی جاتی اور سینیٹر کے ایک الگ کمرے میں مذکورہ طالب علموں کو پرچے حل کرنے کیلئے گائیڈز،کتابیں فراہم کرنے کیلئے ساتھ ڈیجیٹل کلکولیٹر فراہم کئے گئے تاکہ پرچے آسانی سے حل کروائے جا سکیں۔ذرائع کے مطابق پنجاب بھر میں سرکاری تعلیمی اداروں اور امتحانی مراکز کی نگرانی کے لیے قائم خفیہ مانیٹرنگ ٹیموں کی جانب سے گزشتہ ماہ مئی میں کیے گئے اچانک معائنوں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ضلع رحیم یار خان کے محکمہ تعلیم میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق خفیہ ٹیموں نے ضلع کے مختلف امتحانی مراکز اور سرکاری تعلیمی اداروں کا بغیر اطلاع دورہ کیا، جہاں متعدد انتظامی بے ضابطگیوں، اساتذہ کی مبینہ غیرحاضری، امتحانی ڈیوٹی میں غفلت اور بعض مقامات پر نقل کی روک تھام کے انتظامات میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی،ذرائع کے مطابق معائنہ رپورٹ میں ایسے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جہاں امتحانی عملے کی جانب سے نقل کی روک تھام میں مطلوبہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا، جبکہ بعض مراکز میں مبینہ طور پر طلبہ کو غیرقانونی سہولت فراہم کیے جانے کے مشاہدات بھی رپورٹ کا حصہ بنائے گئے، رپورٹ میں متعدد افسران اور ذمہ دار اہلکاروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات کی سفارش کی گئی ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ خفیہ مانیٹرنگ ٹیموں نے اپنے معائنے کے دوران حاضری رجسٹروں، امتحانی ڈیوٹی ریکارڈ، نگرانی کے نظام اور مجموعی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا، بعض اداروں میں اساتذہ کے بروقت ڈیوٹی پر موجود نہ ہونے اور نگرانی کے مؤثر نظام کی کمی کو بھی رپورٹ میں نمایاں کیا گیا ہے،اطلاعات کے مطابق رپورٹ وزیر تعلیم پنجاب کو پیش کیے جانے کے بعد متعلقہ اضلاع کے اعلیٰ تعلیمی افسران سے وضاحت طلب کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ غفلت یا قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں محکمانہ کارروائی، شوکاز نوٹس، معطلی یا دیگر قانونی اقدامات بھی زیر غور ہیں،وزیر تعلیم پنجاب نے امتحانی نظام میں شفافیت کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نقل، بدانتظامی، غیرحاضری اور فرائض میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ رپورٹ میں سامنے آنے والے ہر نکتے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون اور محکمانہ قواعد کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے،تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر خفیہ مانیٹرنگ کے اس نظام کو مستقل بنیادوں پر مؤثر بنایا جائے تو نہ صرف امتحانی نظام میں شفافیت آئے گی بلکہ سرکاری تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط اور تدریسی معیار میں بھی نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے،ماہرین تعلیم کے مطابق چند افراد کی مبینہ غفلت کی بنیاد پر پوری تدریسی برادری کو ذمہ دار قرار دینا مناسب نہیں، تاہم جہاں بھی بے ضابطگیاں ثابت ہوں وہاں قانون کے مطابق کارروائی ناگزیر ہے،دوسری جانب محکمہ تعلیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ کی روشنی میں ضلع رحیم یار خان سمیت دیگر اضلاع کے متعلقہ افسران سے تفصیلی وضاحت طلب کیے جانے اور مستقبل میں مزید خفیہ معائنے کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ امتحانات کے دوران شفافیت، میرٹ اور نظم و ضبط کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔







