ملتان (وقائع نگار)نشتر ہسپتال ملتان میں ایچ آئی وی مریض کی سرجری پر مبینہ غفلت، 5 ملازمین کے خلاف کارروائی، انکوائری افسر کے تبادلے پر تنقید شروع ہوگئی۔ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب نے نشتر ہسپتال ملتان میں ایچ آئی وی پازیٹو مریض کی سرجری کے دوران حفاظتی پروٹوکول کی سنگین خلاف ورزیوں پر پانچ ملازمین کے خلاف ذاتی سماعت (پرسنل ہیرنگ) کے نوٹس جاری کئے تاہم اس اہم انکوائری کے دوران سپیشل سیکرٹری جنوبی پنجاب امان اللہ کو انکوائری آفیسر مقرر کرنے کے بعد ان کا تبادلہ کر دیا گیاجس سے معاملے کو دبانے کی کوششوں کے شبہات پیدا ہو گئے ہیں ۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب نشتر ہسپتال کے شعبہ سرجری میں ایک مشتبہ ایچ آئی وی پازیٹو مریض کا عام مریضوں کے ساتھ آپریشن کیا گیا۔ واقعہ 19 مئی 2026 کو آپریشن تھیٹر 17 وارڈ نمبر 5 میں پیش آیا۔مریض کی ایچ آئی وی اسکریننگ رپورٹ کے بغیر ہی سرجری کر دی گئی۔ مریض کی ہیپاٹائٹس بی اور سی کی رپورٹس تو منفی تھیں مگر ایچ آئی وی کی رپورٹ ابھی زیر التوا تھی۔بعد ازاں جب ایچ آئی وی رپورٹ مثبت آئی تو ہسپتال انتظامیہ نے آپریشن تھیٹر کو سیل کر دیا اور 10 سے زائد ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے ایچ آئی وی ٹیسٹ کروائے گے نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تشکیل کردہ انکوائری کمیٹی نے 9 ڈاکٹرز اور ہسپتال افسران کو غفلت اور پروٹوکول کی خلاف ورزی کا مجرم قرار دیا۔ انکوائری رپورٹ 22 مئی 2026 کو محکمہ کو ارسال کی گئی۔پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاونٹیبلٹی (PEEDA) ایکٹ 2006 کے تحت پانچ ملازمین کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی۔ جن افراد کو نوٹس جاری کیے گئے ان میںسابق ایڈمن رجسٹرار لیب ڈاکٹر شہباز انور، سابق سینئر رجسٹرار سرجری ڈاکٹر فریحہ احمد، سابق میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد نعیم اختر، سابق میڈیکل آفیسر اینستھیزیا ڈاکٹر محمد علی جان اور سابق سٹاف نرس مسز رضا زہرہ شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر فریحہ احمد 19 مئی کو لازمی پوسٹ آپریٹو راؤنڈ کرنے اور بروقت اعلیٰ افسران کو رپورٹ کی معلومات دینے میں ناکام رہیں۔ نرس رضا زہرہ ایچ آئی وی رپورٹ کو متعلقہ حکام تک پہنچانے میں ناکام رہیں۔ ڈاکٹر شہباز انوار نے سرجیکل وارڈ انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کاری میں ناکامی اور ہسپتال پورٹل پر رپورٹ اپ لوڈ کرنے میں تاخیر کو چیک نہ کیا۔ ڈاکٹر محمد علی جان نے اینستھیزیا دینے سے قبل ایچ آئی وی رپورٹ چیک نہ کی۔ ڈاکٹر محمد نعیم اختر نے مینڈیٹری چیک لسٹ چیک کیے بغیر سرجری کی۔ذرائع کے مطابق محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے اس انکوائری کے لیے سپیشل سیکرٹری جنوبی پنجاب امان اللہ کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم اس تقرری کے فوری بعد امان اللہ کا تبادلہ کر کے انہیں ایڈیشنل سیکرٹری فنانس پنجاب کے عہدے پر بھیج دیا گیا۔سیاسی اور طبی حلقوں میں اس تبادلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حلقوں کا کہنا ہے کہ انکوائری کے اہم مرحلے پر انکوائری افسر کا تبادلہ معاملے کو دبانے کی ایک منظم کوشش ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس اقدام کو شفاف انکوائری میں رکاوٹ قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ امان اللہ کو بحال کر کے انکوائری مکمل کرائی جائے۔محکمہ نے تمام نامزد ملازمین کو 7 جولائی 2026 کو لاہور میں سیکریٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ عدم حاضری کی صورت میں یکطرفہ فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔پنجاب کے وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب نشتر ہسپتال میں ایچ آئی وی سے متعلق غفلت کا معاملہ سامنے آیا ہو۔ 2024 کے اواخر میں بھی نشتر ہسپتال کے نیفرولوجی اور ڈائلیسز یونٹ میں ایچ آئی وی پھیلنے کا بڑا واقعہ پیش آیا تھا جس میں 25 سے 30 مریض متاثر ہوئے تھے۔







