لودھراں(بیورو رپورٹ)لودھراں میں انسانیت سسک اٹھی، یونین کونسل شیرپور میں فاترالعقل خاتون آوارہ کتوں کا شکار بن گئی جبکہ آوارہ کتوں کے خاتمے کے لیے خرچ ہونے والے مبینہ کروڑوں روپے کے فنڈز ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔ روزنامہ قوم کی جانب سے طویل عرصے سے ضلع بھر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد اور کتے مار ادویات کی خریداری سے متعلق معاملات کی نشاندہی کی جاتی رہی تاہم صورتحال جوں کی توں ہے۔ اب شیرپور کا افسوسناک واقعہ متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوال بن کر سامنے آ گیا ہے تفصیلات کے مطابق ضلع لودھراں کی یونین کونسل شیرپور میں ممتاز مائی دختر اللہ وسایا کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق فاترالعقل خاتون کو آوارہ کتوں نے مبینہ طور پر رات بھر نوچا جبکہ صبح نماز فجر کے لیے جانے والے افراد نے انہیں شدید زخمی حالت میں دیکھا اور مدد کے لیے آواز بلند کی۔دوسری جانب شہری اور سماجی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ ضلع لودھراں کی متعدد یونین کونسلوں میں آوارہ کتوں کے خاتمے اور کتے مار ادویات کی خریداری کے لیے مختص فنڈز کہاں خرچ ہوئے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر مؤثر اقدامات کیے گئے ہوتے تو شاید اس نوعیت کا افسوسناک واقعہ پیش نہ آتا۔واضح رہے کہ روزنامہ قوم کی جانب سے مختلف اوقات میں آوارہ کتوں کی بھرمار، کتے مار ادویات کی خریداری اور مبینہ بے ضابطگیوں کےحوالے سے مسلسل نشاندہی کی جاتی رہی، تاہم متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیںآئی۔شہری حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ بینش فاطمہ نے لودھراں کا دورہ کیا، تاہم ان کے دورے کے باوجود مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے نہ کوئی واضح انکوائری شروع کی گئی اور نہ ہی متعلقہ سیکرٹریز سے عوامی شکایات کے بارے میں جواب طلبی کی گئی۔ متاثرہ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے۔







