ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ، کروڑوں کی مبینہ کرپشن، 7 روزہ انکوائری 2 سال بعد بھی مکمل نہ ہو سکی

ملتان (خصوصی رپورٹر) علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازی خان میں ڈیزل کے فنڈز میں کروڑوں روپے کے خورد برد ، 11 کے وی فیڈر کے باوجود ماہانہ 80 لاکھ روپے تک پٹرول کے اخراجات اور دیگر کرپشن کے الزامات پر ڈپٹی کمشنر آفس سے معاملات کی تحقیقات کے احکامات کے باوجود انکوائری دو سال کا زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی سرد خانے کی نذر ہے۔ تفصیل کے مطابق علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازی خان میں مالی بے ضابطگیوں، ڈیزل و پٹرول فنڈز میں مبینہ خورد برد اور سرکاری وسائل کے ممکنہ غلط استعمال کے الزامات پر ضلعی انتظامیہ نے 27 جون 2024ء کو ایک حکم نامے میں ہسپتال کے مالی معاملات میں مبینہ کرپشن اور بے قاعدگیوں کی شکایات موصول ہونے پر تین رکنی اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی معلوم ہوا ہے کہ علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال میں مبینہ کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی جس کے بعد حقائق معلوم کرنے اور ذمہ دار افراد کا تعین کرنے کے لیے باقاعدہ تحقیقات ضروری قرار دی گئیں۔ الزامات کے مطابق ڈی جی خان میڈیکل کالج کی ڈائریکٹر فنانس مس رباب اقبال جنہیں علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال اور ایف ایم کے بی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا اضافی چارج بھی دیا گیا تھا انہوں نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ و پرنسپل میڈیکل کالج آصف قریشی کی ملی بھگت سے مبینہ طور پر ڈیزل اور پٹرول کی مد میں سرکاری فنڈز کے غلط استعمال اور خورد برد میں ملوث رہیں ۔معلوم ہوا ہے کہ سال 2018ء میں ہسپتال کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کے لیے تقریباً 2 کروڑ 41 لاکھ روپے کی لاگت سے 11KV کا خصوصی فیڈر نصب کیا گیا اور ڈبل سورس بھی دیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد ہسپتال کو لوڈشیڈنگ سے محفوظ بنانا اور بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا تھا۔ معاہدے کے مطابق میپکو کو بھی پابند کیا گیا تھا کہ کسی تکنیکی خرابی کی صورت میں ہسپتال انتظامیہ کو فوری آگاہ کیا جائے۔اس کے باوجود ہسپتال کے اسٹینڈ بائی جنریٹر کے لیے ہر ماہ 70 سے 80 لاکھ روپے تک پٹرولیم مصنوعات (POL) کے اخراجات ظاہر کیے جاتے رہے جن پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ جب ہسپتال کو علیحدہ اور ڈبل فیڈر کی سہولت حاصل تھی تو پھر اتنی بڑی مقدار میں ڈیزل اور پٹرول کہاں استعمال ہوتا رہا۔ دستاویز میں پرنسپل ڈی جی خان میڈیکل کالج آصف قریشی ، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال، ڈائریکٹر فنانس مس رباب اقبال، ایگزیکٹو آفس اسسٹنٹ فخر عزیز ملغانی اور اکاؤنٹنٹ عنایت احمدانی کے نام بھی ان افراد میں شامل کیے گئے ہیں جن کے کردار کا تحقیقات میں جائزہ لیا جانا تھا،ڈپٹی کمشنر کی جانب سے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی میں اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ غازی خان کو کنوینر جبکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر ڈی جی خان کو ارکان مقرر کیا گیا تھا اور کمیٹی کو ہدایت کی گئی کہ وہ ہسپتال کا تمام متعلقہ ریکارڈ حاصل کرکے مکمل چھان بین کرے اور سات روز کے اندر اپنی رپورٹ سفارشات سمیت پیش کرے مگر وہ سات روز دو سال سے بھی زیادہ ہو گئے لیکن 2024 سے تاحال انکوائری کی رپورٹ سامنے نہیں آئی اور نہ ہی ذمہ داروں کا تعین کیا گیا جس کی وجہ سے کروڑوں روپے کے خورد برد میں ملوث افراد آزاد ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں