تین تاریخ پیدائش کا معمہ ختم، ڈاکٹر کلثوم پراچہ 14 نومبر کو ریٹائر، “قوم” کے انکشافات سچ ثابت

ملتان (سٹاف رپورٹر) روزنامہ قوم کی مسلسل صحافتی جدوجہد اور انکشافات بالآخر رنگ لے آئے۔ 1964، 1966 اور 1968 کی تین مختلف تاریخِ پیدائش کے سہارے 2028 تک ملازمت جاری رکھنے کے خواب دیکھنے والی خواتین یونیورسٹی ملتان کی سابق پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے بارے میں بالآخر سروس بک کے مطابق 1966 کی تاریخِ پیدائش تسلیم کرتے ہوئے ان کی 14 نومبر 2026 کو ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ یوں روزنامہ قوم ایک اور وائس چانسلر کو بے نقاب کرنے اور ریکارڈ کے مبینہ تضادات کو منظر عام پر لانے میں کامیاب ہو گیا۔روزنامہ قوم نے مسلسل متعدد رپورٹس میں ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے ریکارڈ میں موجود تاریخِ پیدائش کے تضادات، مبینہ جعلی تجرباتی سرٹیفکیٹس، غیر قانونی انتظامی فیصلوں، متنازع پروموشنز، سنڈیکیٹ اجلاسوں اور مالی بے ضابطگیوں کے معاملات کو اجاگر کیا تھا۔ اب ریٹائرمنٹ نوٹیفکیشن کے اجرا نے ان سوالات کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ اگر سروس بک میں تاریخ پیدائش 1966 موجود تھی تو 1964 اور 1968 کی تاریخیں مختلف سرکاری دستاویزات میں کیسے استعمال ہوتی رہیں۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا دورِ انتظامیہ پہلے ہی تنازعات کی زد میں رہا۔ ان پر الزام عائد کیا جاتا رہا کہ انہوں نے پرو وائس چانسلر کے محدود اختیارات کے باوجود اہم پالیسی فیصلے کیے، سلیکشن بورڈز اور پروموشن کمیٹیوں میں مداخلت کی اور ایسے فیصلوں کی منظوری دی جن پر بعد ازاں قانونی اعتراضات سامنے آئے۔ لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمات اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری مراسلوں میں بھی متعدد فیصلوں پر سوالات اٹھائے جا چکے ہیں۔ روزنامہ قوم کی رپورٹس میں یہ معاملہ بھی سامنے لایا گیا تھا کہ خواتین یونیورسٹی ملتان کے 43ویں اور 44ویں سنڈیکیٹ اجلاسوں کی قانونی حیثیت متنازع بن چکی ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران یونیورسٹی کے قانونی نمائندوں کی جانب سے بھی بعض اجلاسوں کے منٹس منسوخ ہونے کا اعتراف کیا گیاجس کے بعد ان اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ اسی طرح 8ویں کانووکیشن کے انعقاد کا معاملہ بھی شدید تنازع کا باعث بنا۔ روزنامہ قوم نے بارہا نشاندہی کی کہ مدت پوری ہونے کے بعد کسی سابق عہدیدار کا کانووکیشن جیسے اہم انتظامی فیصلوں پر اثرانداز ہونا قواعد و ضوابط کے منافی ہے۔ بعد ازاں کانووکیشن کا غیر معینہ مدت تک ملتوی ہونا ان خدشات کو تقویت دیتا نظر آیا جن کی نشاندہی مسلسل کی جا رہی تھی۔ یونیورسٹی کے اندرونی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا رہا کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی اپنے قریبی افسران اور انتظامی ٹیم کے ذریعے ادارے کے معاملات پر اثرانداز ہوتی رہیں۔ بعض ملازمین نے الزام عائد کیا کہ پروموشنز، انکریمنٹس اور انتظامی فیصلوں میں پسند و ناپسند کی بنیاد پر اقدامات کیے گئے جبکہ اختلاف رائے رکھنے والوں کو مختلف طریقوں سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید برآں ان پر ایک نجی تعلیمی ادارے کے تجرباتی سرٹیفکیٹ کے حوالے سے بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے۔ ریکارڈ میں موجود ملازمت کے عرصے اور دعویٰ کردہ تجربے میں فرق کے باعث ان کی ابتدائی تقرریوں اور بعد ازاں ترقیوں کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات کھڑے ہوئے۔ اسی طرح سیرت کانفرنس، گرینڈ گالا اور دیگر فنڈز سے متعلق مالی معاملات پر بھی متعدد اعتراضات سامنے آئے جن کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ تاحال برقرار ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ ریٹائرمنٹ نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد اب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے دور میں ہونے والے تمام متنازع فیصلوں، سنڈیکیٹ اجلاسوں، پروموشنز، مالی معاملات، سروس ریکارڈ اور تاریخِ پیدائش کے تضادات کی جامع فرانزک تحقیقات کرائے۔ ماہرین کے مطابق اگر ان معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات نہ ہوئیں تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ سرکاری جامعات میں قواعد و ضوابط محض کمزور ملازمین کے لیے ہیں جبکہ بااثر شخصیات ہر قسم کے احتساب سے بالاتر رہتی ہیں۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے یونیورسٹی کی 80 خواتین کو انتقامی کاروائی کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے ایڈوانسڈ انکریمنٹس روک دیے تھے اور پھر ان کو کمشنر ملتان اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے شوکاز نوٹس بھی جاری کیے گئے تھے۔ اس سے پہلے بھی انہوں نے سابقہ رجسٹرار ڈاکٹر میمونہ یاسمین خان کی بعد از ریٹائرمنٹ، توسیع کی دھوکہ دہی سے کوشش کی تھی مگر اس وقت بھی روزنامہ قوم نے اس غیر قانونی کام کی نشان دہی کرتے ہوئے پوری سینڈیکیٹ ہی غیر قانونی کروا دی تھی اور ڈاکٹر میمونہ کو توسیع نہ مل سکی۔ ان کے دور میں سابقہ خزانچی ڈاکٹر سارہ مصدق نے جب غیر قانونی کاموں سے انکار کیا تو انہوں نے 5 سے 6 خواتین ٹیچرز کے بطور خزانچی نوٹیفکیشن جاری کیے مگر سب نے ہی کام کرنے سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں انہوں نے ڈاکٹر طاہرہ یونس کو پہلے بطور خزانچی جوائننگ کروائی اور بعد ازاں ان کو تعیناتی کا لیٹر دیا گیا۔ اب ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد یونیورسٹی ٹیچرز اور سٹاف نے سکون کا سانس لیا اور وائس چانسلر ڈاکٹر شاہدہ بتول کے قانون کے مطابق فیصلوں کو خوب سراہا اور کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ بتول کی بطور وائس چانسلر تعیناتی ملازمین کے لیے خوش آئند ثابت ہو گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں