ایک سو ایک سالہ سالہ سلائی مشین اور ہجرت

ایک نہتی لڑکی سے۔۔ (تیسری قسط)

میرا دل یقین نہیں کرتا کہ ایف آئی اے ملتان میں تعینات ایک باریش آفیسر نے وفاقی ادارے کی گزیٹڈ ملازمت کی حامل ایک خاتون اور وہ بھی سید زادی، کی غیر موجودگی میں اس کے بیٹے کو اپنے دفتر میں کھڑا کرکے اسکی ماں کو غلیظ گالیوں سے نوازا ہو گا۔ بالکل بے بنیاد مقدمے میں ثبوت نہ ہونے کے باوجود مقدمہ درج کیا ہو گا، اس مقدمے کی بنیاد پر اس خاتون کو پی ٹی وی ملتان آفس سے گرفتار کرایا ہو گا اور جیل بھجوایا ہو گا مگر یقین کرنے کو اس لیے دل آمادہ ہے کہ پاکستان جیسے ماحول میں سرکاری ملازمت میں بندے کا ایمان انتہائی کمزور ہو جاتا ہے اور نوکری اسے بزدل بنا دیتی ہے۔ اسے اللہ سے زیادہ افسروں کا خوف ہوتا ہے اور وہ اپنا رازق اللہ تبارک و تعالی کو دل سے تو مانتا ہے مگر اپنے کے دماغ میں وہ متعدد رازق بنا چکا ہوتا ہے اور الحمد للہ میں اس بات کو اپنی سرکاری ملازمت کے ابتدائی ایام ہی سمجھ چکا تھا اسی لیے میں نے بہت جلد وہ طوق اپنے گلے سے اتار پھینکا جو میرے قلم کو محکوم اور میری سوچ کو قید کرتا تھا پھر بہت جلد مکمل آزادی اختیار کر لی۔ بس پھر جو بھی کیا اپنی مرضی سے کیا اور جو بھی لکھا اپنی مرضی سے لکھا کوئی اپنی مرضی میرے اوپر ٹھونس نہیں سکا اور شاید یہی وجہ ہے کہ اللہ پاک کے فضل و کرم سے میں اپنے قلم کو زندگی بھر فروخت ہونے سے بچائے رکھنے میں کامیاب رہا۔
ایف آئی اے کے ملتان میں عرصے سے تعینات مذکورہ آفیسر کی مجبوری سمجھ آتی ہے کہ ہمیں بہت طاقتور لگنے والے یہ سرکاری آفیسر محض اوپر سے آنے والے ایک فون کی مار ہوتے ہیں۔ ادھر گھنٹی بجی اور ادھر ان کے دماغ کی گھنٹیاں کھڑک گئیں اور قلم کا رخ بدل گیا۔ بس اتنی سی اوقات اور اتنا سا مضبوط ایمان ہماری 80 فیصد سے زائد اس سرکاری اشرافیہ کا ہے جو ہمیں دیکھنے میں بہت طاقتور نظر آتی ہے۔
اسی سے ملتی جلتی صورتحال ہمارے سیاست دانوں کی ہے۔ ایک رکن اسمبلی کے تمام تر اختیارات کی چابی اکثر اوقات میں نے ایک معمولی نوعیت کے یونین کونسل کی سطح کے سیاسی ورکرز کے ہاتھوں میں دیکھی ہے۔ بڑے بڑے سیاسی نام رکھنے والے محلے کی سطح کے سیاسی کارکنوں کی ڈگڈگی پر تھرکنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہی مجبوری پاکستان ٹیلی ویژن ملتان اسٹیشن میں بھی جا بجا نظر آتی ہے جہاں ایک کلرک اپنے سیاسی سسر کے زور پر پورے ادارے کو تگنی کا ناچ نچا رہا ہے۔ اس کی اخلاقی تربیت کا عالم یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ پی ٹی وی میں خواتین کو دیکھ کر تھوکنے سے بھی گریز نہیں کرتا، گالیاں بکتا ہے اور شلوار اتارنے کی دھمکیاں دیتا ہے اور یہ الفاظ جو میں نے لکھے یہ سب مقدمے کی کاروائی کا حصہ ہیں اور شاید اسی لیے اللہ تبارک و تعالی نے پی ٹی وی ملتان کے اس کلرک کو بیٹی کی نعمت سے محروم رکھا ہے مگر دوسری طرف اس کے سسر کو بیٹی جیسی نعمت دے کر مجبور کر دیا کہ وہ اپنی بیٹی کے ہوتے ہوئے دوسروں کی بیٹیوں پر ناجائز مقدمات درج کروانے اور جیل یاترا کروانے میں اپنا تمام تر سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرے۔ رہا معاملہ سیاست دانوں کا تو اگر ان میں اخلاقی جرات ہوتی تو پچھلے 78 سالوں میں پاکستان میں ہر حوالے اور ہر سطح پر اتنی تنزلی نہ ہوتی۔
بچپن میں کہانیاں پڑھتے تھے کہ فلاں جنوں کے سردار دیو کی جان کسی طوطے میں ہوتی تھی اور طوطے کی گردن مروڑنے سے جنوں کا سردار دیو تڑپنے لگ جاتا اور بے بس ہو جاتا پھر ہر حکم بجا لاتا تھا۔ یہ یونین کونسل کی سطح کے سیاسی کارکن بھی بعض اوقات وہی طوطے ہیں جن کی مٹھی میں بڑے بڑے دیو ہیکل سیاستدانوں کی جان اٹکی ہوئی ہوتی ہے، اور جس کا مظاہرہ جا بجا بھی دیکھنے میں آتا رہتا ہے
وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسمنٹ میڈم فوزیہ وقار نے مذکورہ کلرک کو اچھی خاصی سہولت کاری دیتے ہوئے الزامات کی بھرمار کے باوجود قانون کے مطابق سزا اور جرمانہ کرنے کی بجائے محض 50 ہزار روپے ہرجانہ کیا ہے۔ مقدمے کی تمام تر کاروائی، جس کی کاپی میرے سامنے موجود ہے، کو تفصیل سے پڑھنے کے بعد یہ عیاں ہوتا ہے کہ فیصلہ لکھتے وقت عدل کسی بہت بڑے دباؤ کے نیچے آ چکا تھا۔ کاش عدل کا قلم فیصلے کے لیے چلتے وقت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ان مبارک الفاظ کو اپنی سوچوں میں رکھ لیتا
عادل منصف روز محشر مینارہ نور پر میرے ساتھ کھڑا ہو گا‘‘
نبی آخر الزمان نے یہ اعلیٰ ترین مقام کسی اور کے لیے نہیں صرف عادل منصف کے لیے رکھا، سبحان اللہ
منصف کے ذہن میں اگر یہ مقام ہوتا تو یقینی طور پر فیصلہ کچھ اور ہوتا مگر کیا کریں، یہ قرب قیامت کا دور چل رہا ہے، جہاں دنیاوی خدا تو ہر کسی کو دکھائی دیتے ہیں مگر جو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے پر دکھائی نہیں دیتا وہ سب کو بھولا ہوا ہے اور شاید اب ہمیں یہ بھی یاد رہیں کہ ہمیں جلد یا بدیر اس کے سامنے پیش ہونا ہے۔ جی ہاں اس عدالت میں پیش ہونا ہے جس کا ترازو ڈنڈی نہیں مارتا۔ جہاں زبان چپ ہو گی اور جسم کے سارے اعضا فر فر بولیں گے۔(جاری ہے)

شیئر کریں

:مزید خبریں