ملتان( شیخ نعیم سے) محکمہ جیل خانہ جات پنجاب، جو ماضی میں سخت نظم و ضبط اور ایک منظم فورس کے طور پر پہچانا جاتا تھا، حالیہ دنوں میں ایک سنگین انتظامی اور اخلاقی بحران کی زد میں دکھائی دے رہا ہے۔ جیلوں میں تعینات بعض وارڈرز اور ہیڈ وارڈرز کی جانب سے اپنے ہی اعلیٰ افسران کے خلاف سوشل میڈیا پر کھل کر سامنے آنے والے الزامات نے نہ صرف محکمہ کے اندر ہلچل مچا دی ہے بلکہ جیلوں کے انتظامی ڈھانچے اور ساکھ کے حوالے سے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔حالیہ دنوں میں فیصل آباد سنٹرل جیل کے ایک وارڈر ریاض گجر کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو نے اس معاملے کو مزید سنگین بنا دیا۔ مذکورہ وارڈر نے اپنے ویڈیو بیان میں جیل انتظامیہ کے بعض افسران پر مبینہ طور پر قیدیوں کو منشیات فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ محکمہ صحت کے ذریعے قیدیوں کے میڈیکل ٹیسٹ کرائے جائیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر الزامات درست ثابت نہ ہوں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ذرائع کے مطابق اس سے قبل بھی ایک جیل ملازم کی جانب سے اسی نوعیت کے بعض الزامات پر مبنی ایک مبینہ خط منظرعام پر آیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے غیر مصدقہ قرار دیا گیا۔ تاہم اس بار ایک حاضر سروس وارڈر کی جانب سے کھل کر سامنے آنے کو جیلوں کے اندر پائے جانے والے مسائل کی شدت سے جوڑا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل ایک حساس اور سیکیورٹی سے جڑا ہوا ادارہ ہے جہاں کمانڈ اینڈ کنٹرول کا نظام بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے میں ماتحت عملے کی جانب سے کھلے عام افسران پر الزامات عائد کیے جانے سے انتظامی نظم و ضبط متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ بعض حلقوں کے مطابق- اس صورتحال سے جیلوں کے اندر بے اعتمادی، خوف اور گروپ بندی کے رجحانات بھی فروغ پا سکتے ہیں۔دوسری جانب مختلف ذرائع یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے قیدیوں کی فلاح و بہبود، خوراک، طبی سہولیات اور جیلوں کی بہتری کے لیے سالانہ اربوں روپے کے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں، تاہم بعض حلقے ان فنڈز کے استعمال میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات بھی عائد کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم جیل اصلاحات کے حوالے سے سوالات بدستور موجود ہیں۔ذرائع کے مطابق- بعض جیلوں میں تعیناتیوں کے حوالے سے بھی عرصہ دراز سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اہم اور بڑی جیلوں میں تعیناتیوں کے لیے مبینہ طور پر سفارش، سیاسی اثر و رسوخ اور دیگر عوامل کردار ادا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں میرٹ کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔سماجی اور قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر جیل ملازمین کی جانب سے لگائے گئے الزامات میں کوئی حقیقت موجود ہے تو ان کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ ان حلقوں کے مطابق آزادانہ انکوائری قیدیوں کے طبی معائنے اور جیلوں کے انتظامی امور کا جامع آڈٹ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو جیل اصلاحات کے حکومتی دعوؤں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ جیل خانہ جات پنجاب میں سامنے آنے والے تمام الزامات کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے اور ادارے پر عوامی اعتماد بحال ہو سکے۔







