ایچ ای سی: یو ای ٹی، ویمن ملتان، چولستان سمیت 44 جامعات کے کمپیوٹنگ پروگرامز داخلے معطل

ملتان (سٹاف رپورٹر) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان کی جانب سے ملک بھر کی 44 سرکاری و نجی جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے کمپیوٹنگ پروگرامز میں نئے داخلوں کو عارضی طور پر معطل کرنے کے فیصلے نے ملکی اعلیٰ تعلیمی نظام میں موجود سنگین خامیوں کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق ان جامعات کے کمپیوٹنگ پروگرامز کو مزید جائزے، ادارہ جاتی جانچ پڑتال اور مجاز اتھارٹی کی منظوری تک زیر نگرانی رکھا جائے گا اور اس عرصے کے دوران ان پروگرامز میں نئے داخلے نہیں دیئے جائیں گے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اچانک پیدا نہیں ہوئی بلکہ گزشتہ دو برسوں سے روزنامہ قوم اور ماہرین تعلیم مسلسل اس جانب توجہ دلا رہے تھے کہ ملک کی متعدد جامعات کمپیوٹر سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر انجینئرنگ، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور دیگر کمپیوٹنگ پروگرامز کی ایکریڈیٹیشن کے معاملات میں غیر سنجیدگی، سستی اور انتظامی غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ روزنامہ قوم نے 2025 اور 2026 کے دوران متعدد خصوصی رپورٹس، خبروں اور تجزیوں میں بارہا یہ سوال اٹھایا کہ آخر وہ جامعات جو مطلوبہ ایکریڈیٹیشن اور معیار کی شرائط پوری نہیں کر رہیں، انہیں مسلسل داخلے دینے اور نئے پروگرام شروع کرنے کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان رپورٹس میں بارہا یہ نشاندہی کی گئی کہ اگر ایچ ای سی، نیشنل کمپیوٹنگ ایکریڈیٹیشن کونسل اور متعلقہ ادارے بروقت اقدامات نہ کریں تو ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس تمام عرصے کے دوران متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی مؤثر اور نمایاں کارروائی سامنے نہیں آئی اور بالآخر اب ایک ہی مرحلے میں 44 جامعات کے کمپیوٹنگ پروگرامز میں داخلے معطل کرنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ ایچ ای سی کی جانب سے نظرثانی کے لیے جن جامعات کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے ان میں الحمد اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس، سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی پشاور، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ، محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان، ویمن یونیورسٹی مردان، دی ویمن یونیورسٹی ملتان، لاہور لیڈز یونیورسٹی، یونیورسٹی آف صوابی، ایمان انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ سائنسز کراچی، گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان، غازی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ سائنسز ڈیرہ غازی خان، اِلما یونیورسٹی کراچی، چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاولپور، یونیورسٹی آف فاٹا درہ آدم خیل، یونیورسٹی آف کوٹلی آزاد جموں و کشمیر، یونیورسٹی آف جھنگ، کوہسار یونیورسٹی مری، یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ، بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کراچی، گرین انٹرنیشنل یونیورسٹی، یونیورسٹی آف مکران پنجگور، بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی سکھر، یونیورسٹی آف بلتستان سکردو، یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، ویمن یونیورسٹی صوابی، یونیورسٹی آف لورالائی، یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور، شہید بینظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور، پریسٹن یونیورسٹی اسلام آباد، ویمن یونیورسٹی آزاد جموں و کشمیر باغ، الحمد اسلامک یونیورسٹی کوئٹہ، یونیورسٹی آف لکی مروت، سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈو جام، بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار، ناردرن یونیورسٹی نوشہرہ، دی یونیورسٹی آف لاڑکانہ، یونیورسٹی آف تصوف اینڈ ماڈرن سائنسز بھٹ شاہ، یونیورسٹی آف بونیر، خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کرک، برینز انسٹی ٹیوٹ پشاور، ملینیم انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ انٹرپرینیورشپ کراچی، محی الدین اسلامک یونیورسٹی تراڑکھل آزاد جموں و کشمیر اور شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز سکرنڈ شامل ہیں۔تعلیمی ماہرین کے مطابق اس فہرست میں شامل متعدد جامعات گزشتہ کئی برسوں سے کمپیوٹنگ پروگرامز چلا رہی تھیں اور ہزاروں طلبہ ان اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان پروگرامز کی ایکریڈیٹیشن، فیکلٹی، لیبارٹریز، تدریسی معیار یا دیگر تعلیمی تقاضوں کے حوالے سے مسائل موجود تھے تو ان خامیوں کو بروقت کیوں دور نہیں کیا گیا۔ مزید یہ کہ اگر متعلقہ ادارے مسلسل نگرانی کر رہے تھے تو پھر صورتحال اس نہج تک کیوں پہنچی کہ ایک ہی وقت میں اتنی بڑی تعداد میں جامعات کے داخلے معطل کرنا پڑ گئے۔تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آئی ٹی اور کمپیوٹنگ کے شعبے کو ملکی معیشت کا مستقبل قرار دیا جاتا ہے، اربوں ڈالر کی آئی ٹی برآمدات کے دعوے کیے جاتے ہیں اور نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں کی طرف راغب کیا جاتا ہےلیکن دوسری جانب انہی شعبوں سے متعلق پروگرامز کی نگرانی اور معیار کو یقینی بنانے میں ایسی کمزوریاں سامنے آنا انتہائی تشویشناک ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے نے نہ صرف متعلقہ جامعات بلکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ایکریڈیٹیشن کے پورے نظام کی کارکردگی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر د یئے ہیں۔تعلیمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر روزنامہ قوم کی جانب سے 2025 اور 2026 میں مسلسل شائع ہونے والی خبروں اور رپورٹس میں اٹھائے گئے خدشات پر سنجیدگی سے توجہ دی جاتی، بروقت آڈٹ کیے جاتے اور جامعات کو مقررہ وقت کے اندر اصلاحی اقدامات کا پابند بنایا جاتا تو آج ہزاروں طلبہ اور ان کے والدین اس غیر یقینی صورتحال سے دوچار نہ ہوتے۔ اب جبکہ ایچ ای سی نے بالآخر سخت اقدام کرتے ہوئے ان جامعات کے کمپیوٹنگ پروگرامز میں داخلے معطل کر دیئے ہیں، ضروری ہے کہ اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور قوم کو بتایا جائے کہ آخر وہ کون سی انتظامی، ریگولیٹری اور تعلیمی ناکامیاں تھیں جنہوں نے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کو اس مقام تک پہنچا دیا جہاں بیک وقت 44 جامعات کے کمپیوٹنگ پروگرامز کو نظرثانی اور معطلی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس بحران سے سبق حاصل نہ کیا گیا تو مستقبل میں مزید جامعات اور مزید تعلیمی شعبے بھی اسی قسم کے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیںجس کا سب سے بڑا نقصان ملک کے نوجوانوں، قومی تعلیمی ساکھ اور پاکستان کے ٹیکنالوجی کے شعبے کو برداشت کرنا پڑے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں