طالبعلم ہلاکت، ایچ ای ڈی انکوائری کمیٹی جامعہ اسلامیہ پہنچ گئی، سافٹ ڈرنکس فروخت پر سوال

ملتان( ایجوکیشن سیل) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی کینٹین سے سافٹ ڈرنک پینے کے بعد طالب علم کی ہلاکت کے معاملےپر ایچ ای ڈی کی کمیٹی انکوائری کے لیے اسلامیہ یونیورسٹی پہنچ گئی۔تعلیمی اداروں میں سافٹ ڈرنکس کی فروخت پر پابندی کے باوجود آئی یو بی کی کینٹین پر فروخت کیسے جاری تھی؟ کمیٹی کے سوالات۔تفصیلات کے مطابق اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں گزشتہ دنوں بی بی اے کے 22 سالہ طالب علم تنزیل موسیٰ کی ہلاکت کے معاملے کی انکوائری کرنے کے لیے ایچ ای ڈی کی طرف سے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی نے اسلامیہ یونیورسٹی پہنچ کر اس معاملے کی انکوائری کی۔یونیورسٹی ذرائع نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ کمیٹی نے آئی یو بی انتظامیہ اور کینٹین مالک سے دریافت کیا کہ تعلیمی اداروں میں سافٹ ڈرنکس کی فروخت پر پابندی کے باوجود اسلامیہ یونیورسٹی کی کینٹین پر اس کی فروخت کیونکر جاری تھی ۔اس حوالے سے ذرائع کے مطابق کینٹین مالک نے سافٹ ڈرنک کی فروخت کو قبول کرتے ہوئے بتایا کہ طالب علم نے معروف کمپنی کی انرجی بوتل پی تھی جو کہ اس سے پہلے درجنوں طلبا بھی پی چکے تھے مگر کسی کو مسئلہ نہیں ہوا۔ذرائع کے مطابق کمیٹی کو دوران انکوائری یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمرجنسی طبی امداد دینے کے لیے آکسیجن سلنڈر بھی خالی تھا جس کی وجہ سے طالب علم کو ایمرجنسی طبی سہولت کے طور پر آکسیجن مہیا نہیں کی جا سکی جب تک کہ ریسکیو کی ٹیم نہیں پہنچی۔ ذرائع کے مطابق دوران انکوائری ٹیم کو معلوم ہوا کہ یونیورسٹی کی ایمبولینس میں ڈیزل بھی موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے طالب علم کو بر وقت طبی امداد کے لیے بی وی ایچ منتقل نہیں کیا جا سکااور اسلامیہ یونیورسٹی کی میڈیکل ٹیم کی نااہلی نے ایک طالب علم کی جان لے لی۔اس حوالے دوران انکوائری کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ تیسرا واقعہ ہوا ہے جس میں اس طرح موت واقع ہوئی ہے۔اس حوالے سے ترجمان اسلامیہ یونیورسٹی شہزاد احمد نے بتایا کہ انکوائری کمیٹی اپنی انکوائری مکمل کر کے جا چکی ہے اور انہوں نے اس انکوائری کے دوران بیانات بھی قلمبند کیے ہیں اور طبی سہولیات کے حوالے سے بھی جائزہ لیا جبکہ انکی رپورٹ آنا باقی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں