جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس پاکستان کا حلف اٹھا لیا-جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس پاکستان کا حلف اٹھا لیا-امریکا ایران مذاکرات کے مثبت اثرات، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی-امریکا ایران مذاکرات کے مثبت اثرات، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی-ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی بحالی اور ناکہ بندی ختم ہونے کا دعویٰ: عباس عراقچی-ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی بحالی اور ناکہ بندی ختم ہونے کا دعویٰ: عباس عراقچی-بجٹ میں عوام کو کوئی حقیقی ریلیف نہیں ملا، سودی نظام کا بوجھ مزید بڑھ گیا: حافظ نعیم الرحمن-بجٹ میں عوام کو کوئی حقیقی ریلیف نہیں ملا، سودی نظام کا بوجھ مزید بڑھ گیا: حافظ نعیم الرحمن-نجی کمپنیوں کیلئے گندم ٹارگٹ ناکام، جبری خریداری، پکڑ دھکڑ، جنوبی پنجاب میں صورتحال ابتر-نجی کمپنیوں کیلئے گندم ٹارگٹ ناکام، جبری خریداری، پکڑ دھکڑ، جنوبی پنجاب میں صورتحال ابتر

تازہ ترین

نجی کمپنیوں کیلئے گندم ٹارگٹ ناکام، جبری خریداری، پکڑ دھکڑ، جنوبی پنجاب میں صورتحال ابتر

ملتان (سٹاف رپورٹر) حکومت پنجاب کی تمام تر کوششوں کے باوجود نجی کمپنیوں کے لیے گندم سٹاک کرنے کا ٹارگٹ پورا نہیں ہو رہا اور زبردستی گھروں سے ظلم اور جبر کے ذریعے گندم اٹھائی جا رہی ہے۔ فلور ملز مالکان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ کاشتکاروں سے خریدی گئی گندم کا سات سے دس فیصد حصہ سرکاری کھاتے میں جمع کروائیں اور نجی کمپنیوں کو عطیہ کیے گئے سرکاری گوداموں میں بھجوائیں۔ پیرا فورس ،محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کے افسران اختیارات نہ ہونے کے باوجود بعض شہروں سے ایک بہت بڑے ظلم کی نشاندہی ہو رہی ہے کہ جو سرکاری ادارے گندم زبردستی پکڑ رہے ہیں اس کی سرکاری قیمت 3500 روپے فی من کی بجائے تین ہزار روپے فی من دی جا رہی ہے اس دھونس کے لیے گزشتہ سال جاری ہونے والے محکمہ خوراک کے ایک لیٹر کو جواز بنایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں روزنامہ قوم نے سیکرٹری حکومت پنجاب محترمہ کرن خورشید کے ذرائع سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ایسا کوئی خط رواں سال میں جاری نہیں کیا گیا بلکہ گندم کی سرکاری قیمت 3500 روپے ہی ہے اور جو گندم کاشت کاروں سے لی جا رہی ہے اس کی 3500 روپیہ فی من کے حساب سے ادائیگی کی جا رہی ہے مگر سیکرٹری حکومت پنجاب کے بیان کے برعکس جنوبی پنجاب میں سرکاری مشینری نے بعض علاقوں میں ظلم کی انتہا کر رکھی ہے اور سب سے زیادہ ابتر صورتحال ضلع وہاڑی کی تحصیل میلسی، دنیاپور، لودھراں، جلال پور پیر والا ،شجاع آباد اور ملتان کی ہے جہاں زبردستی گندم چھینی جا رہی ہے۔ سڑکوں پر ناکے لگے ہوئے ہیں اور ہر ٹرک کو چیک کیا جا رہا ہے اور جس پر گندم ہو اسے زبردستی نجی کمپنیوں کے گوداموں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ سرکاری مشینری کی تمام تر دن رات کی کوششوں کے باوجود ملتان کا ٹارگٹ 50 فیصد بھی مکمل نہیں ہو سکا کیونکہ صرف ملتان ضلع میں نجی کمپنیوں کے لیے گندم جمع کرنے کا ٹارگٹ 7 لاکھ بوری ہے جبکہ اس وقت تک ساڑھے تین لاکھ بوری کا ٹارگٹ بھی انتظامیہ اپنے تمام تر حربوں کے باوجود حاصل نہیں کر سکی۔ اسی قسم کی صورتحال دیگر شہروں میں بھی ہے۔ بعض جگہوں سے ایسی شکایات بھی ملی ہیں کہ گھروں میں خواتین کی موجودگی میں بھی سرکاری ادارے داخل ہو کر ذخیرہ کی گئی گندم اٹھا رہے ہیں اور 11 نجی کمپنیوں میں سے ایل ڈی سی کو سب سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہاں یہ امر خصوصی طور پر توجہ طلب ہے کہ ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود ایک گودام سے اٹھائی گئی گندم واپس نہیں کی جا رہی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں گندم 3900 روپے فی من سے لے کر 4100 روپے فی من چوری چھپے فروخت ہو رہی ہے۔ حکومت پنجاب کے فوڈ سکیورٹی کا سارا نظام اپنی کوتاہی اور التوائی حربوں کا عتاب پنجاب کے عوام پر ڈال رہی ہے اور جب یہ فیصلہ کرنے میں دیر کر رہے تھے اس وقت محکمہ خوراک ہی کے ملازم 30 سے 50 ہزار روپیہ فی ٹرالر لے کر گندم پنجاب سے باہر بھجوا رہے تھے اور جب سینکڑوں ٹرالے گندم لے کر کے پی کے سندھ اور بلوچستان پہنچ گئے تب حکومت پنجاب نے فیصلہ کیا کہ نجی کمپنیوں کے لیے گندم خریدی جائے اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی اور کاشتکار اپنی گندم فروخت کر چکے تھے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں