ملتان (قوم انویسٹیگیشن سیل) واسا ملتان میں 46 کروڑ روپے کی بوگس ادائیگی کی منصوبہ بندی کی خبر روزنامہ قوم ملتان اور قوم ڈیجیٹل ملتان میں بے نقاب کیے جانے کے بعد اعلیٰ سطحی انکوائری شروع ہو چکی ہے اور حیران کن طور پر ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کو فوری طور پر تبدیلکر دیا گیا ہے جبکہ اس معاملے کے اصل کردار مکھن سے بال کی طرح بچا لیے گئے ہیں۔ اس صورتحال میں سیکرٹری ہاؤسنگ حکومت پنجاب اور ڈی جی واسا حکومت پنجاب طیب فرید کی طرف سے حیران کن طور پر تادم تحریر کسی قسم کا رد عمل، نوٹس، موقف یا انکوائری کا حکم سامنے نہیں آیا جبکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب فواد ہاشم ربانی جو کہ بہت طیب شہرت کے حامل ہیں، نے اس معاملے کو بہت سیریس لیا اور انہیں جو ابتدائی رپورٹ پیش کی گئی انہوں نے اس رپورٹ سے عدم اتفاق کرتے ہوئے سپیشل سیکرٹری ہاؤسنگ جنوبی پنجاب رانا سلیم کو انکوائری افسر مقرر کر دیا ہے جو کہ اس سے قبل ڈی جی ایم ڈی اے کے طور پر واسا کے انچارج بھی رہے ہیں اور ان معاملات کو بخوبی جانتے ہیں۔ یہاں یہ امر توجہ طلب ہے کہ روزنامہ قوم اور قوم ڈیجیٹل پر 46 کروڑ روپے کی آئی پی سی کی خبر 15 جون کو شائع ہوئی اور اس خبر کی اشاعت کا ملبہ مبینہ طور پر سابق ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ذیشان شوکت گوندل پر ڈال کر 16 جون کو ہی لاہور سے ان کے ٹرانسفر آرڈر منگوا لیے گئے مگر تین دن تک انہیں خفیہ رکھا گیا اور 19 تاریخ کو ان کے حوالے کیا گیا جبکہ 19 تاریخ کو ان کی جگہ نئےڈی ایم ڈی حفیظ لغاری کو تعینات کر دیا گیا۔ اس دوران تین دن یہ آرڈر خفیہ کیوں رکھا گیا یہ سوالیہ نشان ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب کی انکوائری میں یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ اس میں چیک کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ یہ معاملہ بوگس چیک کا نہیں بلکہ آئی پی سی کا ہے اور ٹیکنیکل زبان میں آئی پی سی کا مطلب کچھ اس طرح سے ہے۔ (IPC – Interim Payment Certificate) ایک عبوری مالی کلیم یا ادائیگی کی درخواست ہوتی ہے جو ٹھیکیدار ترقیاتی منصوبے میں کیے گئے جزوی کام کے عوض متعلقہ محکمے کو جمع کرواتا ہے۔ اس میں ٹھیکیدار مکمل کیے گئے کام کی مقدار اور مالیت درج کروا کر ادائیگی کا مطالبہ کرتا ہے، جسے بعد ازاں کنسلٹنٹ یا متعلقہ انجینئرز موقع پر کام کی جانچ پڑتال اور پیمائش کے بعد تصدیق کرکے ادائیگی یا مسترد کرتے ہیں۔اسی ترقیاتی منصوبے میں مکمل کیے گئے کام کی بنیاد پر ٹھیکیدار کو عبوری ادائیگی کی منظوری دینے والا سرٹیفکیٹ آئی پی سی کہلاتا ہے۔ انکوائری کرنے والے افسران نے اسے آئی پی سی کے بجائے چیک کا نام دیا ہے جبکہ عبوری ادائیگی کا سرٹیفکیٹ کسی طور پر بھی چیک نہیں ہوتا البتہ اس کی بنیاد پر چیک جاری ہوتا ہے اور یہ فراڈ چیک جاری ہونے کے مرحلے سے پہلے ہی پکڑا گیا جسے پکڑنے والا ایک آڈیٹر تھا اور اسی کے توجہ دلانے پر سابق ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ذیشان شوکت گوندل نے یہ معاملہ موقع پر کام کی تصدیق کے لئے کنسلٹنٹ کو بھجوا دیا تو کنسلٹنٹ نے بھی ٹھیکیدار فرم پرک احتشام کے اس کام کو بوگس قرار دے دیا اور اپنی رپورٹ میں بتایا کہ موقع پر 46 کروڑ کا کام نہیں ہوا بلکہ ساڑھے چار سے پانچ کروڑ روپے کا کام ہوا ہے۔ اس طرح 41 کروڑ روپے کا فراڈ کیا جا رہا تھا جو عین موقع پر پکڑا گیا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس افسر نے اس آئی پی سی کی کنسلٹنٹ سے تصدیق کروائی اور 41 کروڑ روپیہ حکومت پنجاب کا ضائع ہونے سے بچا لیا اسے ہی کیوں ٹرانسفر کیا گیا؟۔ اب یہ معاملہ انکوائری کے لیے ساؤتھ پنجاب کے سپیشل سیکرٹری ہاؤسنگ رانا سلیم کے پاس ہے جنہوں نے سات دن کے اندر اندر رپورٹ مکمل کرنی ہے اور انہوں نے 22 جون بروز سوموار تمام متعلقہ افسران اور کنٹریکٹر پرک احتشام کو ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب کی ہدایات کی روشنی میں اپنے پاس طلب کر لیا ہے۔واضح رہے کہ واسا کے ترقیاتی منصوبے میں نارتھ ڈویژن میں پرانی سیوریج لائنوں کی تبدیلی کے معاملے پر ٹھیکیدار فرم پرک احتشام جے وی نے 46 کروڑ روپے کی آئی پی سی جمع کروائی تھی جسے چیک کروایا گیا تو موقع پر کام ساڑھے چار سے پانچ کروڑ کا پایا گیا تھا ۔







