لندن/نیویارک: امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات میں پیش رفت کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ دنیا بھر کی بیشتر اسٹاک مارکیٹس میں بہتری دیکھی گئی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سرمایہ کاروں نے امریکا اور ایران کے مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید کے طور پر دیکھا، جس کے باعث توانائی منڈی پر دباؤ کم ہوا اور مارکیٹ میں اعتماد میں اضافہ ہوا۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت میں ایک ڈالر سے زائد کمی ہوئی ہے جس کے بعد قیمت 79.44 ڈالر فی بیرل تک آگئی ہے۔ اسی طرح دیگر خام تیل کے بینچ مارکس میں بھی ابتدائی کاروبار کے دوران کمی ریکارڈ کی گئی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ثالث ممالک کی کوششوں سے ایک ممکنہ روڈ میپ تیار کیا جا رہا ہے، جس کے تحت امریکا اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔
اس مثبت صورتحال کے اثرات عالمی اسٹاک مارکیٹس پر بھی دیکھے گئے، جہاں ایشیا، یورپ اور دیگر خطوں میں بیشتر انڈیکسز میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان مستقل معاہدہ طے پا جاتا ہے تو عالمی توانائی مارکیٹ کو استحکام مل سکتا ہے، تیل کی رسد میں بہتری آ سکتی ہے اور عالمی معیشت پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ دنوں میں مذاکرات کے نتائج نہ صرف تیل کی قیمتوں بلکہ عالمی اسٹاک مارکیٹس، توانائی کے شعبے اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی اہم اثرات ڈال سکتے ہیں۔







