جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس پاکستان کا حلف اٹھا لیا-جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس پاکستان کا حلف اٹھا لیا-امریکا ایران مذاکرات کے مثبت اثرات، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی-امریکا ایران مذاکرات کے مثبت اثرات، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی-ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی بحالی اور ناکہ بندی ختم ہونے کا دعویٰ: عباس عراقچی-ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی بحالی اور ناکہ بندی ختم ہونے کا دعویٰ: عباس عراقچی-بجٹ میں عوام کو کوئی حقیقی ریلیف نہیں ملا، سودی نظام کا بوجھ مزید بڑھ گیا: حافظ نعیم الرحمن-بجٹ میں عوام کو کوئی حقیقی ریلیف نہیں ملا، سودی نظام کا بوجھ مزید بڑھ گیا: حافظ نعیم الرحمن-نجی کمپنیوں کیلئے گندم ٹارگٹ ناکام، جبری خریداری، پکڑ دھکڑ، جنوبی پنجاب میں صورتحال ابتر-نجی کمپنیوں کیلئے گندم ٹارگٹ ناکام، جبری خریداری، پکڑ دھکڑ، جنوبی پنجاب میں صورتحال ابتر

تازہ ترین

بجٹ میں عوام کو کوئی حقیقی ریلیف نہیں ملا، سودی نظام کا بوجھ مزید بڑھ گیا: حافظ نعیم الرحمن

لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حالیہ وفاقی بجٹ میں عوام کے لیے کسی قسم کی خاطر خواہ سہولت شامل نہیں کی گئی بلکہ ملک پر سودی نظام کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 18 ہزار ارب روپے کے وفاقی بجٹ میں کوئی نئی یا عوام دوست حکمت عملی نظر نہیں آتی، اور بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگی میں چلا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک اقلیتی رکن اسمبلی بھی یہ بات کہہ چکا ہے کہ سود اللہ کے ساتھ جنگ کے مترادف ہے، اس کے باوجود سودی نظام کو ختم کرنے کے بجائے مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کا پورا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث اربوں روپے کا اضافی مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے پنشن اور تنخواہوں میں صرف 7 فیصد اضافہ کیا ہے، جبکہ ای او بی آئی کے نظام میں بھی سنگین بے ضابطگیاں موجود ہیں، حالانکہ ملازمین کی تنخواہوں سے باقاعدہ کٹوتی کی جاتی ہے۔
انہوں نے شہباز شریف اور بلاول بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ 43 ہزار روپے میں گھر کا بجٹ بنا کر دکھائیں، اور یہ بھی بتائیں کہ ان کے خاندان کی زمینوں پر کام کرنے والے ہاریوں کو کتنی اجرت دی جاتی ہے۔
سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک ہی جماعت کی حکومت کے باوجود عوامی مسائل جوں کے توں ہیں۔ کراچی میں بدترین انتظامی صورتحال ہے، شہر میں جمہوری عمل متاثر ہے اور میئر کے معاملات پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی سمیت تعلیمی اداروں کی حالت خراب ہے، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور شہر کو بڑے پیمانے پر ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہے۔ طلبہ کے لیے روزگار کے مواقع ناکافی ہیں اور حکومت کی طرف سے کوئی مؤثر منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 28 فروری کی سطح کے مطابق کم کیوں نہیں کی جاتیں۔ بجلی کے نرخوں میں کمی، سلیب سسٹم کے خاتمے اور پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے دباؤ پر بار بار نئے ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایف بی آر اپنی کارکردگی بہتر کیوں نہیں بنا رہا جبکہ اس کے ہزاروں ملازمین موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو فوری ریلیف دیا جانا ضروری ہے کیونکہ ملک میں زیادہ تر لوگ موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں اور مہنگائی سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ معاہدوں اور مالی بوجھ کے باعث بجلی کی لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔ عوامی مسائل کے حل کے لیے بیداری ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی نظام میں شفافیت اور حقیقی جمہوریت کا فقدان ہے، اور جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو جمہوری اصولوں پر حقیقی طور پر عمل کرتی ہے۔
انہوں نے آئندہ انتخابات کے حوالے سے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو کسی صورت چھیننے یا تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر ایسا ہوا تو مزاحمت کی جائے گی۔
عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کو فلسطین اور اسرائیل کے معاملے پر مشترکہ حکمت عملی اپنانی چاہیے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی پر بھی سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں