ملتان(سٹاف رپورٹر) 19 جون 2026 کو بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی منعقدہ سنڈیکیٹ میٹنگ میں ممبران کی شرکت ایک نئے تنازعے کی زد میں آ گئی ہے۔ یونیورسٹی کے سرکاری ذرائع اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے شواہد میں واضح تضاد نے اجلاس کی شفافیت، حاضری کے ریکارڈ اور فیصلہ سازی کے عمل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ یونیورسٹی کے آفیشل ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تمام سنڈیکیٹ ممبران اجلاس کے دوران یونیورسٹی میں موجود رہے۔ ذرائع کے مطابق مرد اراکین نے جمعہ کی نماز بھی یونیورسٹی میں ادا کی اور نماز کے بعد ہونے والے اجلاس کے سیشن میں بھی بھرپور شرکت کی۔ تاہم جب اس معاملے پر ایک سنڈیکیٹ ممبر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ جمعہ سے قبل تینوں اراکین پنجاب اسمبلی سید علی حیدر گیلانی، رانا سلیم اور مقصوداں بیگم اجلاس میں شریک تھے، تاہم جمعہ کے بعد رانا سلیم ایک ضروری کام کے باعث روانہ ہو گئے جبکہ سید علی حیدر گیلانی اور مقصوداں بیگم اجلاس میں موجود رہے۔ یہ دعویٰ اس وقت مزید مشکوک ہو گیا جب معلوم ہوا کہ انہی اوقات میں پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس لاہور میں جاری تھا اور مذکورہ تینوں ایم پی ایز کی لاہور میں موجودگی کے شواہد بھی سامنے آ گئے۔ صورتحال نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب مقصوداں بیگم کے صاحبزادے نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سید علی حیدر گیلانی، رانا سلیم اور مقصوداں بیگم نے بہاالدین زکریا یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ میٹنگ میں لاہور سے آن لائن شرکت کی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر اور پوسٹ نے یونیورسٹی انتظامیہ کے سرکاری مؤقف کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔ اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر آن لائن شرکت ہوئی بھی تو وہ صرف چند منٹوں اور فوٹو سیشن تک محدود رہی کیونکہ پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس پورا دن جاری رہا اور متعلقہ اراکین کے پاس سنڈیکیٹ اجلاس میں مؤثر شرکت کے لیے وقت ہی موجود نہ تھا۔ ذرائع کے مطابق پانچ منٹ کی علامتی آن لائن حاضری کو کیا باقاعدہ سنڈیکیٹ شرکت تصور کیا جا سکتا ہے؟ کیا اجلاس کے دوران ہونے والی بحث، قراردادوں اور اہم فیصلوں میں ان اراکین نے واقعی حصہ لیا یا صرف تصویری حاضری لگائی گئی؟ وائرل تصویر کا ایک اور دلچسپ پہلو بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ تصویر میں صرف سید علی حیدر گیلانی کے سامنے ایک دستاویز رکھی ہوئی دکھائی دیتی ہے جبکہ رانا سلیم اور مقصوداں بیگم کے سامنے کوئی ایجنڈا، فائل یا سرکاری دستاویز موجود نہیں۔ یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ سید علی حیدر گیلانی کے سامنے موجود دستاویز سنڈیکیٹ اجلاس کا ایجنڈا تھا یا پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے متعلق کوئی کاغذات۔ ادھر ایک اور اہم سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ مقصوداں بیگم کے صاحبزادے سنڈیکیٹ اجلاس کی آن لائن کارروائی تک کس حیثیت میں رسائی رکھتے تھے؟ کیا انہیں اجلاس تک رسائی دینے کی باضابطہ اجازت دی گئی تھی؟ اگر ہاں تو کس قانون، ضابطے یا اختیار کے تحت؟ کیا سنڈیکیٹ ممبران کی فیملیز میٹنگ میں شرکت کرنا چاہیں تو کیا یونیورسٹی انتظامیہ ان کو اجازت دے گی؟ یونیورسٹی حلقوں میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ کیا مقصوداں بیگم کے لیے سنڈیکیٹ ایجنڈے کی اردو کاپی تیار کی گئی تھی؟ اگر اجلاس کی کارروائی اور ایجنڈا انگریزی زبان میں تھا تو کیا انہیں معاملات کی مکمل تفہیم حاصل تھی؟یونیورسٹیوں کے اعلیٰ ترین پالیسی ساز فورمز میں ایسے افراد کی نامزدگی اور شرکت کے معاملات پہلے ہی تنقید کی زد میں ہیں جن کا اعلیٰ تعلیم، یونیورسٹی گورننس، تحقیقی امور یا تعلیمی پالیسی سازی سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔ اب سنڈیکیٹ اجلاس میں جسمانی یا آن لائن شرکت کے متضاد دعوؤں نے اس پورے نظام کی ساکھ پر مزید سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ تعلیمی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی انتظامیہ فوری طور پر اجلاس کی مکمل حاضری، آن لائن لاگ ریکارڈ، پورے اجلاس میں تمام ایم پی ایز کی موجودگی کی ویڈیو ریکارڈنگ اور کارروائی کی تفصیلات جاری کرے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ 19 جون کو سنڈیکیٹ اجلاس میں کون کہاں موجود تھا، کس نے کتنی دیر شرکت کی اور اہم فیصلوں میں کس حد تک عملی کردار ادا کیا۔ بصورت دیگر یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ ملک کی اہم جامعات کے اعلیٰ ترین فورمز بھی محض رسمی کارروائیوں اور تصویری سیشنز تک محدود ہو چکے ہیںجہاں اصل فیصلہ سازی کے بجائے حاضری کے ریکارڈ ہی سب سے بڑا سوال بن گئے ہیں۔ یاد رہے کہ سینڈیکیٹ اجلاس میں جسٹس شہباز علی رضوی بھی ذاتی مصروفیات کے باعث شرکت نہ کر سکے۔







