ویسے تو پاکستان میں ہر شعبہ ہی زوال پذیر ہے مگر جو زوال سفارشی بھرتیوں سے پی ٹی وی میں آیا ہے اس کی کوئی مثال ہی نہیں ملتی۔ اللہ غریق رحمت کرے امجد اسلام امجد بہت پائے کے شاعر اور لکھاری تھے اور انہوں نے پی ٹی وی کے لیے یادگار ڈرامے لکھے۔ ایک ملاقات میں نے ان سے میں نے پوچھا کہ 80 کی دہائی میں جو آپ نے کلاسیکل ڈرامے لکھے وہ آج کل کیوں نہیں لکھے جا رہے۔ آپ کا قلم کمزور ہو گیا ہے یا آپ نے حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہے۔ انہوں نے بہت خوبصورت جواب دیا، گویا ہوئے کہ اب تو ٹوٹے رشتوں ناجائز تعلقات، رشتوں کی بے حرمتی اور اخلاقی سمیت ہر طرح کی تنزلی آجکل کے ڈراموں کی ضرورت ہے جسے میں پوری نہیں کر سکتا۔
بات پی ٹی وی کے اخلاقی معیار کی ہو رہی تھی تو مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا۔ ایک نجی ٹی وی چینل پر ایک بہت بڑی اشتہاری مہم شروع ہوئی جس میں سکول کی بچیاں نیلے رنگ کی شرٹ اور سفید شلوار پہنے کھیلتی کودتی دکھائی گئی تھیں۔ اب نیلے رنگ کی قمیض اور سفید شلوار تو جماعت اول کی بچی سے لے کر دہم کی بچی تک ایک ہی یونیفارم چلتا تھا جو شاید کہیں کہیں اب بھی ہے مگر مذکورہ اشتہار معصوم بچیوں کے لیے تو بلکل بھی نہ تھا۔ اس پر بہت اعتراض ہوا۔ مذکورہ معروف ٹی وی چینل کو اچھی خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر انہوں نے وہی فارمولا استعمال کیا کہ اگر تم گرد میں پھنس جاؤ اور بھاگنے کی کوئی راہ نہ ملے تو وہی گرد دوسروں پر ڈال دو اور اس گرد کا فائدہ اٹھا کر وہاں سے نکل بھاگو۔ یہی فارمولا پی ٹی وی پر لاگو کیا گیا اور اس دور کے پی ٹی وی کے سربراہ کو باقاعدہ مینج کرکے وہی اشتہاری مہم پی ٹی وی پر چلا دی گئی اور پھر جو الزام یا تنقید نجی ٹی وی چینل پر عوامی حلقوں سے ہوتی تھی وہ بند ہو گئی اور پی ٹی وی نے ایک ایسی اشتہاری مہم کو اون کر لیا جس کی چنداں ضرورت نہ تھی پھر جو ہمارے اخلاقی معیار کے حوالے سے قابل اعتراض بھی تھی کیونکہ مذکورہ اشتہار پرائمری اور مڈل کی بچیوں کے لیے نہ تھا۔ مگر مذکورہ یونیفارم تو پرائمری کی بچیاں بھی پہنتی تھیں۔
شاہدہ پیرزادہ عرف شہگی گزشتہ دو سال سے روزنامہ قوم کی باقاعدہ کالم نگار ہیں اور سوشل ایشوز، خواتین کے خلاف ہراسمنٹ اور پسے ہوئے طبقے پر کالمز لکھتی ہیں مگر خود گزشتہ چھ سال سے پی ٹی وی میں چند غیرت کی کمی میں مبتلا ملازمین کے ہاتھوں ہراسمنٹ کا شکار ہیں۔ ان کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے پی ٹی وی کی یونین کا الیکشن لڑا اور ایسے طبقے کو چیلنج کر دیا جن کے ملازمتی اور اخلاقی معیار ذرا مختلف تھے۔ پی ٹی وی کے مردوں نے اپنی ساری مردانگی اس نہتی خاتون پر نکالنے کی پوری کوشش کی۔ جھوٹے مقدمات درج کرائے اور سیاسی طور پر انہیں مینج کیا جس کے نتیجے میں اس سید زادی نے سات دن جیل بھی کی ہوا بھی کھائی۔ ناجائز مقدمے، سیاسی دباؤ، فرعون اور موسی کا ایک پیج پر ہونا، ایف آئی اے کا مکمل طور پر دباؤ کے تحت مینج ہونا یہ سب اس نہتی خاتون نے بھگتا۔ پی ٹی وی ملتان کے چند مردوں جو حقیقت میں مرد نہیں بلکہ مردے (فوت شدہ) ہیں کیونکہ اہل دانش کے نزدیک ضمیر مرنے سے بہتر ہوتا ہے کہ بندہ مر جائے۔
اس ساری ہراسمنٹ کی ابتدا اس وقت ہوئی جب 2020 میں اسلام آباد سے خالد محمود لکھن نامی ایک انتہائی آلودہ کردار کا حامل شخص سزا کے طور پر پی ٹی وی کا ملتان کا جنرل مینجر بنا کر بھیجا گیا۔ موصوف کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ غلاظت کا چلتا پھرتا ڈھیر تھے اور وہ جہاں بھی گئے، غلاظت ہی بکھیر کر آئے اور سیاسی پشت پناہی کی بدولت ہر مرتبہ انتہائی الودہ پرسنل فائل ہونے کے باوجود اہم عہدوں پر فائز رہے۔ جو کچھ وہ آزاد کشمیر میں کرکے آئے تھے وہی حرکت موصوف نے ملتان میں کرنے کی کوشش کی مگر سید زادی آڑے آ گئی اور اس نے لکھن کی لاکھوں لکیریں نکلوا دی۔ 28 سال تک ہر طرح کی غیر اخلاقی سرگرمی اور کرپشن میں ملوث رہنے والا جب سید زادی کے مقابلے پر اترا اور اسے ’’راہ راست‘‘پر لانے کی کوشش کی تو بات مقدمے بازی تک جا پہنچی۔ سید زادی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ اس کی گاڑی کو راستے میں روکا جاتا، اسے ہراساں کیا جاتا غنڈہ عناصر اس کی گاڑی کے ارد گرد پھرتے۔ پھر ہراسمنٹ کا کیس سابق وفاقی محتسب اسلام آباد محترمہ کشمالہ طارق کی عدالت میں چلا اور 2023 میں تین سال بعد کشمالہ طارق نے انتہائی جرات مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے جرم ثابت ہونے پر پی ٹی وی ملتان کے جنرل مینجر خالد محمود لکھن کو نہ صرف نوکری سے برخواست کر دیا بلکہ دس لاکھ جرمانہ بھی عائد کیا اور پھر اس نے سید زادی کو معافی نامہ بھی لکھ دیا مگر اس کی بحالی نہیں ہوئی اور اب معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔
(جاری ہے)







